مہارت تامہ رکھتا ہے جس کو زمانہ دراز کی مشق کے باعث سے تشخیص امراض اور تحقیق عوارض کیؔ پوری پوری واقفیت حاصل ہے اور علاوہ اس کے فن سخن جو تسلی اور تشفی وعدہ سے حاصل ہوتی ہے۔ وہ نری خود تراشیدہ خیالات سے ممکن نہیں مثلاً خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں ایمانداروں کو یہ وعدہ دیا ہے۔ 3 33۔۱؂ الجزو نمبر ۵۔ یعنے خدا مومنین صالحین کو ہمیشہ کی بہشت میں داخل کرے گا۔ خدا کی طرف سے یہ سچا وعدہ ہے اور خدا سے زیادہ تر سچا اپنی باتوں میں اور کون ہے۔ اب خود منصف ہوکر بتلاؤ کہ کیا اس صریح وعدہ سے صرف اپنے ہی دل کے خیالات برابر ہوسکتے ہیں کیا کبھی یہ دونوں صورتیں یکساں ہوسکتی ہیں کہ ایک کو ایک راستباز کسی قدر مال دینے کا اپنی زبان سے وعدہ کرے اور دوسرے کو وہ راستباز اپنی زبان سے کچھ بھی وعدہ نہ کرے کیا مبشر اور غیر مبشر دونوں برابر ہوسکتے ہیں ہرگز نہیں۔ اب اپنے ہی دل میں سوچو کہ زیادہ صاف اور کھلا ہوا اور بااطمینان وہ کام ؔ ہے کہ جس میں خدا کی طرف سے نیک اجر دینے کا وعدہ ہو یا وہ کام کہ جو فقط اپنے ہی دل کا منصوبہ ہو اور خدا کی طرف سے خاموشی ہو۔ کون دانا ہے کہ جو وعدہ کو غیر وعدہ سے بہتر نہیں جانتا کون سا دل ہے جو وعدہ کے لئے نہیں تڑپتا اگر خدا کی طرف سے ہمیشہ چپ چاپ ہی ہو تو پھر اگر خدا کی راہ میں کوئی محنت بھی کرے تو کس بھروسہ پر۔ کیا وہ اپنے ہی تصورات کو خدا کے وعدے قرار دے سکتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ جس کا ارادہ ہی معلوم نہیں کہ وہ کونسا بدلہ دے گا اور کیونکر دے گا اور کب تک دے گا۔ اس کے کام پر کون خودبخود پختہ امید کرسکتا ہے۔ اور ناامیدی کی حالت میں کیونکر محنتوں اور کوششوں پر دل لگا سکتا ہے۔ انسان کی کوششوں کو حرکت دینے والے اور انسان کے دل میں کامل جوش پیدا کرنے والے خدا کے وعدے ہیں۔ انہیں پر نظر کرکے عقلمند انسان اس دنیا کی محبت کو چھوڑتا ہے اور ہزاروں پیوندوں اور تعلقوں اور زنجیروں سے خدا کے لئے الگ ہوجاتا ہے۔ وہی وعدے ہیں کہ جو ایک آلودہ حرص و ہوا کو ایکبارگی خدا کی طرف کھینچ لاتے ہیں۔ جبھی کہ