میں من حیث الکمالات اُس سے برابر ہوجائے۔ مثلاً ایک طبیب حاذق جو علم ابدان میں کیوں یہ فرض ہے کہ بنی آدم کو ان کی پرہیزگاری کا ضرور بدلہ دے اور فاسقوں سے ان کے فسق و فجور کا مواخذہ کرے۔ جس حالت میں خدا پر خود یہی فرض نہیں کہ انسان کی روح کو برخلاف تمام حیوانوں کی روحوں کے ہمیشہ کے لئے موجود رکھے اور دوسرے سب جاندار ان کی روح معدوم کردے تو پھر خاص انسان کو جزا سزا دینا اور دوسروں کو اس سے بے نصیب رکھنا کیونکر اس پر فرض ہوجائے گا۔ کیا تمہاری نیکیوں سے خدا کو کچھ فائدہ پہنچتا ہے اور تمہاری بدیوں سے اس کو کچھ تکلیف ملتی ہے تا وہؔ نیکیوں۱؂ سے آرام پاکر ان کو نیکی کا بدلہ دے اور بدوں سے ایذا اٹھا کر ان سے کینہ کشی کرے اور اگر تمہاری نیکی بدی سے اس کا نہ کچھ ذاتی فائدہ ہے نہ نقصان تو پھر تمہاری اطاعت یا عدم اطاعت اس کے لئے برابر ہے اور جب برابر ہوئی تو پھر اس صورت میں اعمال پر خواہ نخواہ پاداش کا مترتب ہونا کیونکر یقینی طور پر ثابت ہو۔ کیا یہ قرین انصاف ہے کہ کوئی شخص محض اپنی مرضی سے بغیر حکم دوسرے کے کوئی کام کرے اور دوسرے پر خواہ نخواہ اس کا حق ٹھہر جائے ہرگز نہیں مثلاً اگر زید بدوں حکم بکر کے کوئی گڑھا کھودے یا کوئی عمارت بناوے تو گو یہ بھی تسلیم کرلیں کہ اس گڑھے یا عمارت میں بکر کا سراسر فائدہ ہے پر تب بھی ازروئے قانون انصاف کے ہرگز بکر پر واجب نہیں ہوتا کہ زید کی محنت اور سعی کا عوض ادا کرے۔ کیونکہ زید کی وہ محنت صرف اپنے ہی خیال سے ہے نہ بکر کی فہمائش اور حکم سے۔ پھر جس حالت میں ہماری نیکیوں سے خدا کو کچھ فائدہ بھی نہیں پہنچتا بلکہ تمام عالم کے پرہیزگار اور نیکوکار ہوجانے سے بھی خدا کی بادشاہت ایک ذرہ زیادہ نہیں ہوتی اور نہ ان سب کے فاسق اور بدکار ہوجانے سے اس کی بادشاہی میں ایک ذرہ خلل آتا ہے تو پھر اس صورت میں جب تک خدا کی طرف سے کوئی صریح وعدہ نہ ہو کیونکر یقینی طور پر سمجھا جائے کہ وہ ہماری نیکیوں یا ہماری بدیوں کا ضرور ہمیں پاداش دے گا ہاں اگر خدا کی طرف سے کوئی وعدہ ہو تو اس صورت میں ہریک عقل سلیم بہ یقین تمام سمجھتی ہے کہ وہ اپنے وعدوں کو ضرور پورا کرے گا اور ہر شخص بشرطیکہ نرا احمق نہ ہو بخوبی جانتا ہے کہ وعدہ اور عدم وعدہ ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔