سے بکلّی منزہ اور پاک ہو۔ اور سراسر حق اور حکمت اور فصاحت اور بلاغت اور حقائق ؔ اور معارف سے بھرا ہوا ہو تو ایسے مضمون کے لکھنے میں وہی شخص سب سے پیچھے سے بڑے بڑے منطقی بن کر ان پر حاشیئے چڑھاتے گئے۔ انہوں نے صدہا مصنوعی پرمیشر بنانے یا آپ ہی پرمیشر بن جانے میں وہ کمال دکھلایا جس سے ان کی نظروں اور فکروں کا آخری نتیجہ یہ ہوا کہ وہ طرح طرح کے اوہامِ سوداویہ میں پڑ کر ذات مدبر عالم کے حقیقی وجود اور اس کی تمام صفات کاملہ سے منکر ہوگئے اور جو کچھ ان کے اپنشدوں اور پرانوں اور پستکوں نے ہندوؤں کے دلوں میں تاثیریں کیں اور جن جن توّہمات میں ان کو ڈال دیا اور جن راہوں پر ان کو قائم کردیا اور جن چیزوں کی پرستش کی طرف انہیں جھکا دیا وہ ایسا امر نہیں ہے کہ جو کسی پر پوشیدہ ہو یا کسی کے چھپانے سے چھپ سکے یا کسی کے انکار سے مشتبہ ہو جائے علیٰ ہذا القیاس یونانیوں کا بھی یہی حال تھا۔ انہوں نے بھی کوے کی طرح زیرک کہلا کر پھر شرک کی نجاست کھائی اور مجرد عقل نے کسی زمانہ میں کوئی ایسی جماعت طیار نہ کی جو توحید خالص پر قائم ہوتی اور میں نے بخوبی تحقیق کیا ہے کہ برہمو سماج والوں کی توحید کی طرف مائل ہونے کی بھی یہی اصل ہے کہ جو ان کے بعض بزرگوں میں سے وہ شخص جو بانی مبانی اس مذہب کا تھا۔ اس نے قرآن شریف ہی سے کسی قدر توحید کا حصہ حاصل کیا تھا مگر اپنی بدنصیبی سے پوری توحید حاصل نہ کرسکاپھر وہی تخم توحید جو خدا کی کلام سے لیا گیا تھابرہمو سماج والوں میں پھیلتا گیا اگر کسی صاحب کو حضراتؔ ِ برہمو میں سے ہماری اس تحقیق میں کچھ کلام ہو تو لازم ہے کہ وہ ہمارے اس سوال کا مدلّل طور پر جواب دیں کہ ان کو مسئلہ توحید کا کیونکر حاصل ہوا آیا بطور سماع پہنچا یا ان کے کسی بانی نے صرف اپنی عقل سے ایجاد کیا اگر بطور سماع پہنچا تو کھول کر بیان کرنا چاہیئے کہ بجز قرآن شریف اَور کون سی کتاب تھی جس نے خدا کا واحد لاشریک ہونا اور عیال و اطفال سے پاک ہونا اور حلول اور تجسم سے منزہ رہنا اور اپنی ذات اور جمیع صفات میں کامل اور یگانہ ہونا اس زمانہ میں خطہ ہندوستان میں مشہور کررکھا تھا جس سے یہ مسئلہ توحید ان کو حاصل ہوا اس کتاب کا نام بتلانا چاہیئے اور اگر یہ دعویٰ ہے کہ اس بانی کو