لکھنا چاہیں کہ جو فضول اور کذب اور حشو اور لغو اورہزلؔ اور ہر یک مہمل بیانی اور ژولیدہ زبانی اور دوسرے تمام امور مخل حکمت وبلاغت اور آفات منافی کمالیت وجامعیت کا فتور و قصور پایا جاتا ہے وہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کلام الٰہی سے فیض پایا۔ وہی چشمہ خدا کے کلام کا جوش مار کر دور دور تک بہ نکلا۔ اُسی نے ہندوستان کے خشک شدہ باغ کو بھی ثلث کے قریب سرسبز کردیا اور جو باقی رہ گئے ان میں سے بھی کئی دلوں پر اس پاک چشمہ کا اثر جاپڑا اور کچھ نہ کچھ ان کو بھی توحید کی طرف کھینچ لایا۔ قرآن کے پہنچنے سے پہلے جس حالت تک ہندوؤں کی گمراہی پہنچ گئی تھی وہ حالت ان پرانوں اور پستکوں کو پڑھ کر معلوم کرنی چاہیئے کہ جو قرآن کے آنے سے کچھ تھوڑے دن پہلے تصنیف ہوچکے تھے جن کی مشرکانہ تعلیموں نے تمام ہندوستان کو ایک دائرہ کی طرح گھیرؔ لیا تھا تا تمہیں معلوم ہو کہ اس زمانے میں تمہارے بزرگ رشیوں کے کیسے خیالات تھے اور تمہارے مرتاض منی اور رکھی کن کن توہمات باطلہ میں ڈوب گئے تھے اور کیونکر بے جان مورتوں کے آگے ہاتھ جوڑتے اور آباہن کے منتر پڑھتے تھے۔ باوصف اس کے کہ اس زمانہ میں بہت سا حصہ ان کو علوم عقلیہ میں سے حاصل ہوچکا تھا اور وید کے زمانہ کی نسبت فکر اور نظر کی مشق میں بہت کچھ ترقی کرگئے تھے بلکہ منطق اور فلسفہ میں یونانیوں سے کچھ کم نہ تھے۔ مگر عقائد ایسے خراب اور ناپاک تھے کہ جو ظاہراً اور باطناً بتمامہا شرک کی غلاظتوں سے آلودہ تھے اور جن کو کوئی حقانی صداقت چھو بھی نہیں گئی تھی اور سر سے پاؤں تک جھوٹے اور بے بنیاد اور نکمے اور باطل تھے۔ جن کی تحریک سے تمام جہان کو آپ کے عقلمند بزرگوں نے اپنا معبود ٹھہرا رکھا تھا۔ اگر ایک درخت تازہ و سرسبز و خوشنما نظر آیا اسی کو اپنا معبود ٹھہرایا۔ اگر کوئی آگ کا شعلہ زمین سے نکلتا پایا۔ اسی کی پوجا شروع کردی۔ اور جس چیز کو اپنی صورت یا خاصیت میں عجیب دیکھا یا ہولناک معلوم کیا وہی اپنا پرمیشر بنالیا۔ نہ پانی چھوڑا نہ ہوا نہ آگ نہ پتھر نہ چاند نہ سورج نہ پرند نہ چرند۔ یہاں تک کہ سانپوں کی بھی پوجا کی۔ بلکہ ویدوں میں تو ابھی مخلوق پرستی کی تعلیم کچھ تھوڑی تھی اورمورت پوجا کا تو ہنوز کچھ ذکر ہی نہ تھا مگر جو صاحب