​ اول درجہ پر رہے گا کہ جو علمی طاقتوں اور وسعت معلومات اور عام واقفیت اور ملکہ علوم دقیقہ میں سب سے اعلیٰ اور مشقؔ اور ورزشِ املاء و انشاء میں سب سے زیادہ تر توحید کی خبر بطور سماع نہیں پہنچی بلکہ اس نے صرف اپنی ہی عقل کے زور سے اس مسئلہ کو پیدا کیا تو اس صورت میں یہ ثابت کرکے دکھلانا چاہیئے کہ بانی مذکور کے وقت میں یعنے جس زمانہ میں برہمو مذہب کا بانی مبانی ایک مذہب جاری کرنے لگا۔ اس وقت ہندوستان میں بذریعہ قرآن شریف ابھی توحید نہیں پھیلی تھی کیونکہ اگر پھیل چکی تھی تو پھر توحید کا دریافت کرنا ایک ایجاد خیال نہیں کیا جائے گا بلکہ یقینی طور پر یہی سمجھا جائے گا کہ اس برہمو مذہب کے بانی نے قرآن شریف سے ہی مسئلہ توحید کو حاصل کیا تھا بہرحال جب تک آپ لوگ دلائل قویہ سے میری اس رائے کو ردّ نہ کریں تب تک یہی ثابت ہے کہ آپ لوگوں نے قرآن شریف سے ہی مسئلہ وحدانیتِ الٰہی معلوم کیا مگر نمک حرام آدمی کی طرح کافر نعمت رہے اور اپنے محسن اور مُربی کا شُکر بجا نہ لائے بلکہ ان لوگوں کی طرح جن کی طینت میں خبث اور فساد ہوتا ہے بجائے شکر بجالانے کے بدگوئی اختیار کی۔ ماسوائے اس کے تمام تواریخ دان بخوبی جانتے ہیں کہ ازمنہ سابقہ میں بھی جب کسی نے خدا کے نام اور اس کی صفات کاملہ سے پوری پوری واقفیت حاصل کی تو الہام ہی کے ذریعہ سے کی اور عقل کے ذریعہ سے کسی زمانہ میں بھی توحید الٰہی شائع نہ ہوئی یہی وجہ ہے کہ جس جگہ الہام نہ پہنچا اس جگہ کے لوگ خدا کے نام سے بے خبر اور حیوانات کی طرح بے تمیز اور بے تہذیب رہے کون کوئی ایسی کتاب ہمارے سامنے پیش کرسکتا ہے کہ جو ازمنہ سابقہ میں سے کسی زمانہ میں علم الٰہی کے بیان میں تصنیف ہوئی ہو اور حقیقی سچائیوں پر مشتمل ہو جس میں مصنف نے یہ دعویٰ کیا ہو کہ اس نے خداشناسی کے مستقیم راہ کو بذریعہ الہام حاصل نہیں کیا اور نہ خدائے واحد کی ہستی پر بطور سماع اطلاع پائی ہے بلکہ خدا کا پتہ لگانے اور صفات الٰہیہ کے جاننے اور معلوم کرنے میں صرف اپنی ہی عقل اور اپنے ہی فکر اور اپنی ہی ریاضت اور اپنی ہی عرق ریزی سے مدد ملی ہے اور بلا تعلیم غیرے آپ ہی مسئلہ وحدانیتؔ الٰہی