ہونا ضروری ہے۔ تفصیل اسؔ کی یہ ہے کہ ہرایک عاقل کی نظر میں یہ بات نہایت بدیہی ہے کہ جب چند متکلمین انشاپرداز اپنی اپنی علمی طاقت کے زور سے ایک ایسا مضمون پس صحیفہ فطرت کے بند ہونے میں اس سے زیادہ تر اور کیا ثبوت ہوگا کہ جس کسی کا کام صرف اسی صحیفہ سے پڑا اور الہام الٰہی کا اس نے کبھی نام نہ سنا وہ خدا کی شناخت سےؔ بالکل محروم بلکہ انسانیت کے آداب سے بھی دور اور مہجور رہا۔ اور اگر صحیفہ فطرت کے کھلے ہوئے ہونے سے یہ مطلب ہے کہ وہ جسمانی طور پر نظر آتا ہے تو یہ بے سود خیال ہے جس کو بحث ہذا سے کچھ تعلق نہیں۔ کیونکہ جس حالت میں کوئی شخص صرف اس صحیفہ فطرت پر نظر کرکے کوئی فائدہ علم دین کا اٹھا نہیں سکتا اور جب تک الہام رہبری نہ کرے خدا کو پانہیں سکتا تو پھر ہمیں اس سے کیا کہ کوئی چیز ہر وقت نظر آرہی ہے یا نہیں۔ اور یہ گمان کہ الہام الٰہی کا دروازہ کسی زمانہ میں بند رہا تھا اس سے بھی اگر کچھ ثابت ہو تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ برہمو سماج والوں کو سلسلہ دنیا کی تاریخ سے کچھ بھی خبر نہیں اور نرے اس اندھے کی طرح ہیں کہ جو راستہ چھوڑ کر کسی گڑھے میں گر پڑے اور پھر شور مچادے کہ ہے ہے کس ظالم نے راستہ میں گڑھا کھود رکھا ہے۔ اور یا ایسے متعصبانہ خیالات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ برہمو لوگ دانستہ حق پر پردہ ڈالتے ہیں اور جان بوجھ کر ایک امر مشہود و موجود سے انکاری ہیں۔ ورنہ کیونکر باور کیا جائے کہ وہ ایک چھوٹے بچہ کی طرح ایسے ناواقف ہیں کہ اب تک انہیں اس بدیہی صداقت کی بھی کچھ خبر نہیں کہ ہمیشہ توحید الٰہی صرف الہام ہی کے ذریعہ سے پھیلتی رہی ہے اور معرفت الٰہی کے طالبوں کے لئے قدیم سے یہی دروازہ کھلا رہا ہے۔ اے حضرات!! کچھ خدا کا خوف کریں۔ اتنا خلاف گوئی میں بڑھتے نہ جائیں۔ اگر آپ کی بصیرت میں کچھ خلل ہے تو کیا بصارت بھی جاتی رہی ہے۔ کیا آپ کو نظر نہیں آتا کہ کروڑہا کروڑ موحد یعنی اہل اسلام جن کے دل توحید کے چشمہ صافی سے لبریز ہورہے ہیں اور جن کی وحدانیت خالص کے مقابلہ پر آپ لوگوں کے عقائد میں کئی طرح سے شرک کی آلودگی اور صدہا طرح