ہوتا ہے اور مثل اجلیٰ بدیہات کے نظر آتا ہے جیسے منجملہ ان کے ایک وہ وجہ ہے جو ان نتائج متفاوتہ سے ماخوذ ہوتی ہے۔ جن کا مختلف طور پر بحالت عمل صادر صحیفہ نہیں محض لاطائل اور سراسر حمق ہے۔ علاوہ برآں ہم پہلے اس سے برہمو سماج والوں کی خداشناسی کے بارہ میں بہ تفصیل لکھ چکے ہیں کہ ایمان ان کا جو صرف دلائل عقلیہ پر مبنی ہے ہونا چاہیئے کے مرتبے تک محدود ہے اور مرتبہ کاملہ ہے کا انہیں نصیب نہیں۔ سو اس تحقیقات سے بھی یہی ثابت ہے کہ کھلا ہوا اور واضح راستہ معرفت الٰہی کا صرف بذریعہ کلام الٰہی ملتا ہے اور کوئی ذریعہ اس کے وصول و حصول کا نہیں۔ ایک بچہ نوزاد کو تعلیم سے محروم رکھ کر صرف صحیفہ فطرت پر چھوڑ دو۔ پھر دیکھو کہ وہ اس صحیفہ کے ذریعہ سے جس کو برہمو سماج والے کھلا ہوا خیال کررہے ہیں کون سی معرفت حاصل کرلیتا ہے اور کس درجہ خداشناسی پر پہنچ جاتا ہے۔ بہت سے تجارب سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اگر کوئی سماعی طور پر جس کا اصل الہام ہے خدا کے وجود سے اطلاع نہ پاوے تو پھر اس کو کچھ پتہ نہیں لگتا کہ اس عالم کا کوئی صانع ہے یا نہیں۔ اور اگر کچھ صانع کی تلاش میں توجہ بھی کرے تو صرف بعض مخلوقات جیسے پانی۔ آگ۔ چاند۔ سورج وغیرہ کو اپنی نظر میں خالق و قابل پرستش قرار دے لیتا ہے۔ جیسا یہ امر جنگلی آدمیوں پر نظر کرنے سے ہمیشہ بہ پایہ تصدیق پہنچتا رہا ہے۔ پس یہ الہام ہی کا فیض ہے جس کی برکتوں سے انسان نے اس خدائے بے مثل و مانند کو اسی طرح پر شناخت کرلیا جیسا اس کی ذات کامل و بے عیب کے لائق ہے۔ اور جو لوگ الہام سے بے خبر ہوگئے اور کوئی کتاب الہامی ان میں موجود نہ رہی اور نہ کوئی ذریعہ الہام پر اطلاع پانے کا ان کو میسر آیا باوجود اس کے کہ آنکھیں بھی رکھتے تھے اور دل بھی مگر کچھ بھی معرفت الٰہی ان کو نصیب نہ ہوئی بلکہ رفتہ رفتہ انسانیت سے بھی باہر ہوگئے اور قریب قریب حیوانات لایعقل کے پہنچ گئے اور صحیفہ فطرت نے کچھ بھی ان کو فائدہ نہ پہنچایا۔ پس ظاہر ہے کہ اگر وہ صحیفہ کھلا ہوا ہوتا۔ تو اس سے جنگلی لوگ فائدہ اٹھا کر معرفت اور خداشناسی میں ان لوگوں کے برابر ہوجاتے جنہوں نے بذریعہ الہام الٰہی خداشناسی میں ترقی کی۔