بلکہ صاحب عقل اور بصیرت کے علاوہ دلائل متذکرہ بالا کے کئی ایک اور وجوہ بھی ہیں جن سے خدا کے کلام کا عدیم المثال ہونا اور بھی زیادہؔ اس پر واضح وہی ہے جس نے اپنا کار نمایاں اور نہایت عمدہ اور دیرپا نتائج دکھلا کر اپنی بے نظیر تاثیر کی دو بدو شہادت سے بڑے بڑے معاندوں سے اپنی لاثانی فضیلتوں کا اقرار کرایا۔ یہاں تک کہ سخت بے ایمانوں اور سرکشوں کے دلوں پر بھی اس کا اس قدر اثر پڑا کہ جس کو انہوں نے قرآن شریف کی عظمت شان کا ایک ثبوت سمجھا اور بے ایمانی پر اصرار کرتے کرتے آخر اس قدر انہیں بھی کہنا پڑا کہ 3۔ جزو نمبر ۳۲۔۱؂ ہاں وہی ہے جس کی زبردست کششوں نے ہزارہا درجہ عادت سے بڑھ کر ایسا خدا کی طرف خیال دلایا کہ لاکھوں خدا کے بندوں نے خدا کی وحدانیت پر اپنے خون سے مہریں لگا دیں۔ ایسا ہی ہمیشہ سے بانی کار اور ہادی اس کام کا الہامؔ ہی چلا آیا ہے جس سے انسانی عقل نے نشوونما پایا۔ ورنہ بڑے بڑے حکیموں اور عقلمندوں کے لئے بھی یہ بات سخت محال رہی ہے کہ ان کو امور ماوراء المحسوسات کی ہرجزئی کے دریافت کرنے میں ایسا موقعہ ہمیشہ مل جائے کہ یہ بات معلوم کرسکیں کہ کس کس وضع اور خصوصیت سے وہ جزئیات موجود ہیں اور جن کو طاقت بشری تک عقل حاصل ہی نہیں یا جہد اور کوشش کرنے کے سامان میسر نہیں آئے وہ تو انکی نسبت بھی زیادہ لاعلم اور بے خبر ہیں۔ پس اس بارہ میں جو جو سہولتیں خدا کے سچے اور کامل الہام نے کہ جو قرآن شریف ہے عقل کو عطا کی ہیں اور جن جن سرگردانیوں سے فکر اور نظر کو بچایا ہے وہ ایک ایسا امر ہے کہ جس کا ہر یک عاقل کو شکر کرنا لازم ہے۔ سو کیا اس اعتبار سے کہ ابتدا امر خدا شناسی کی الہام ہی کے ذریعہ سے ہوئی ہے اور کیا اس وجہ سے کہ معرفت الٰہی کا ہمیشہ ازسرنو زندہ ہونا الہامؔ ہی کے ہاتھ سے ہوتا آیا ہے اور کیا اس خیال سے کہ مشکلات راہ سے رہائی پانا الہام ہی کی امداد پر منحصر ہے ہر عاقل کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ راہ جو نہایت صاف اور سیدھی اور ہمیشہ سے کھلی ہوئی اور مقصود تک پہنچاتی ہوئی چلی آئی ہے وہ وحی ربانی ہے۔ اور یہ سمجھنا کہ وہ کھلا ہوا