پاکرؔ اپنے تئیں اس اقرار کے کرنے کے لئے مجبور پاتا ہے کہ کوئی چیز جو صادر من اللہ ہے ایسی نہیں ہے جس کی مثل بنانے پر انسان قادر ہو اور نہ کسی عاقل کی عقل یہ تجویز کرسکتی ہے کہ خدا کی ذات یا ؔ صفات یا افعال میں مخلوق کا شریک ہونا جائز ہے
دلوں سے جوش مار کر نکلتی ہیں۔ پس اس جگہ بھی یہی ثابت ہوا کہ باعتبار شدت اثر بھی الہامی تربیت ہی منفتح الابواب ہے۔ غرض باعتبار عمومیت تاثیر اور باعتبار شدت تاثیر فقط صحیفہ وحی کا کھلا ہوا ہونا بپایہ ثبوت پہنچتا ہے وبس۔ اور یہ مسئلہ بدیہات سے کچھ کم نہیں ہے کہ خدا کے بندوں کو زیادہ تر نفع پہنچانے والا وہی شخص ہوتا ہے کہ جو الہام اور عقل کا جامع ہو۔ اور اس میں یہ لیاقت ہوتی ہے کہ ہریک طور کی طبیعت اور ہرقسم کی فطرت اس سے مستفیض ہوسکے۔ مگر جو شخص صرف براہین منطقیہ کے زور سے راہ راست کی طرف کھینچنا چاہتا ہے۔ اگر اس کی مغززنی پر کچھ ترتیب اثر بھی ہو تو صرف ان ہی خاص طبیعتوں پر ہوگا کہ جو بوجہ تعلیم یافتہ ولائق وفائق ہونے کے اس کی عمیق و دقیق باتوں کو سمجھتے ہیں۔ دوسرے تو ایسا دل و دماغ ہی نہیں رکھتے کہ جو اس کی فلاسفری تقریر کو سمجھ سکیں۔ ناچار اس کے علم کا فیضان فقط انہیں قدر قلیل لوگوں میں محدود رہتا ہے کہ جو اس کی منطق سے واقف ہیں اور انہیں کو اس کا فائدہ پہنچتا ہے کہ جو اُسؔ کی طرح معقولی حجتوں میں دخل رکھتے ہیں۔ اس امر کا ثبوت اس حالت میں بوضاحت تمام ہوسکتا ہے کہ جب مجرد عقل اور الہام حقیقی کی کارروائیوں کو پہلو بہ پہلو رکھ کر وزن کیا جاوے۔ چنانچہ جن کو گزشتہ حکماء کے حالات سے اطلاع ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ کیسے وہ لوگ اپنی تعلیم کی اشاعت عامہ سے ناکام رہے اور کیونکر ان کے منقبض اور ناتمام بیان نے عام دلوں پر موثر ہونے سے اپنی محرومی دکھلائی۔ اور پھر بمقابلہ اس حالت متنزلہ ان کی کے قرآن شریف کی اعلیٰ درجہ کی تاثیروں کو بھی دیکھئے کہ کس قوت سے اس نے وحدانیت الٰہی کو اپنے سچے متبعین کے دلوں میں بھرا ہے اور کس عجیب طور سے اس کی عالیشان تعلیموں نے صدہا سالوں کی عادات راسخہ اور ملکات ردّیہ کا قلع و قمع کرکے اور ایسی رسوم قدیمہ کو کہ جو طبیعت ثانی کی طرح ہوگئیں تھیں دلوں کے رگ و ریشہ سے اٹھا کر وحدانیت الٰہی کا شربت عذب کروڑہا لوگوں کو پلا دیا ہے