ہزارہا دقائق حکمت سے ُ پر دیکھ کر اور انسانی طاقتوں کے مقابلہ سے برتر اور بلند اُس کی تقریروں کو سمجھ سکتے ہیں اور وہ فوراً ہریک قسم کے آدمی کی اسی طور پر تسلی کرسکتا ہے کہ جس طور پر آدمی کی طبیعت واقعہ ہے یا جس درجے پر اس کی استعداد پڑی ہوئی ہے۔ اس لئے کلام اس کی خدا کی طرف خیالات کو کھینچنے میں اور دنیا کی محبت چھوڑانے میں اور احوال الآخرت نقش دل کرنے میں بڑی وسیع قدرت رکھتی ہے اور ان تنگ اور تاریک تصوروں میں محدود نہیں ہوتی جن میں مجرد عقل پرستوں کی باتیں محدود ہوتی ہیں۔ اسی جہت سے اس کا اثر عام اور اس کا فائدہ تام ہوتا ہے۔ اور ہریک ظرف اپنی اپنی وسعت کے مطابق اس سے پر ہوجاتا ہے۔ اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام مقدس میں اشارہ فرمایاؔ ہے۔3 3۔ الجزو نمبر ۳۱۔۱؂ خدا نے آسمان سے پانی (اپنا کلام) اتارا۔ سو اس پانی سے ہر یک وادی اپنی قدر کے موافق بہ نکلی۔ یعنے ہریک کو اس میں سے اپنی طبیعت اور خیال اور لیاقت کے موافق حصہ ملا۔ طبائع عالیہ اسرار حکمیہ سے متمتع ہوئیں۔ اور جو ان سے بھی اعلیٰ تھے انہوں نے ایک عجیب روشنی پائی کہ جو حد تحریر و تقریر سے خارج ہے اور جو کم درجے پر تھے انہوں نے مخبر صادق کی عظمت اور کمالیت ذاتی کو دیکھ کر دلی اعتقاد سے اس کی خبروں پر یقین کرلیا اور اس طرح پر وہ بھی یقین کی کشتی میں بیٹھ کر ساحل نجات تک جاپہنچے اور صرف وہی لوگ باہر رہ گئے جن کو خدا سے کچھ غرض نہ تھی اور فقط دنیا کے ہی کیڑے تھے۔ اور نیز قوت اثر پر نظر کرنے سے بھی طریق متابعت الہام کا نہایت کھلا ہوا اور وسیع معلوم ہوتا ہے کیونکہ جاننے والے اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ تقریر میں اسی قدر برکت اور جوش اور قوت اور عظمت اور دلکشی پیدا ہوتی ہے کہ جس قدر متکلم کا قدم مدارج یقین اور اخلاص اور وفاداری کے اعلیٰ درجے پر پہنچا ہوا ہوتا ہے۔ سو یہ کمالیت بھی اسی شخص کی تقریر میں متحقق ہوسکتی ہے کہ جس کو دوہرے طور پر معرفت الٰہی حاصل ہو۔ اور یہ خود ہریک عاقل پر روشن ہے کہ پرجوش تقریر کہ جس پر ترتیب اثر موقوف ہے تب ہی انسان کے منہ سے نکلتی ہے کہ جب دل اس کا یقین کے جوش سے پرہو۔ اور وہی باتیں دلوں پر بیٹھتی ہیں جو کامل الیقین