​ بھلا دیا ہے جن کے دیکھنے کے لئے ہریک صادر من اللہ آئینہ خدانما ہونا چاہئے لیکن یہ سچائیاں ایسی روشن اور صافؔ ہیں کہ گو کوئی شخص اسلام کی جماعت میں دلالت پر کفایت کریں اور تصریحات کلام الٰہی کی طرف متوجہ نہ ہوں تو بموجب دلالت فطرتی ہمارا یہ اصول ہونا چاہیئے کہ ہم جس چیز کو چاہیں بلاتفریق مواضع حلت و حرمت دیکھ لیا کریں اور جو چاہیں سن لیں اور جو بات دل میں آوے بول اٹھیں۔ کیونکہ قانون فطرت ہم کو اس قدر سمجھاتا ہے کہ آنکھ دیکھنے کے لئے کان سننے کے لئے زبان بولنے کے لئے مخلوق ہے اور ہم کو صریح اس دھوکے میں ڈالتا ہے کہ گویا ہم قوت بصارت اور قوت سمع اور قوت نطق کے استعمال کرنے میں بکلی آزاد اور مطلق العنان ہیں۔ اب دیکھنا چاہیئے کہ اگر خدا کا کلام قانون قدرت کے اجمال کی تصریح نہ کرے اور اس کے ابہام کو اپنے بیان واضح اور کھلی ہوئی تقریر سے دور نہ فرماوے تو کس قدر خطرات ہیں جو محض قانون فطرت کا تابعدار ہوکر ان میں مبتلا ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ یہ خدا ہی کا کلام ہے جس نے اپنے کھلے ہوئے اور نہایت واضح بیان سے ہم کو ہمارے ہریک قول اور فعل اور حرکت اور سکون میں حدود معینہ مشخصہ پر قائم کیا اور ادب انسانیت اور پاک روشی کا طریقہ سکھلایا۔ وہی ہے جس نے آنکھ اور کان اور زبان وغیرہ اعضاء کی محافظت کے لئے بکمال تاکید فرمایا۔33۔ الجزو نمبر ۸۱۔۱؂ یعنے مومنوں کو چاہیئے کہ وہ اپنی آنکھوں اور کانوں اور سترگاہوں کو نامحرموں سے بچاویں اور ہریک نادیدنی اور ناشنیدنی اور ناکردنی سے پرہیز کریں کہ یہ طریقہ ان کی اندرونی پاکی کا موجب ہوگا یعنے ان کے دل طرح طرح کے جذبات نفسانیہ سے محفوظ رہیں گے۔ کیونکہ اکثرؔ نفسانی جذبات کو حرکت دینے والے اور قویٰ بہیمیہ کو فتنہ میں ڈالنے والے یہی اعضاء ہیں۔ اب دیکھئے کہ قرآن شریف نے نامحرموں سے بچنے کے لئے کیسی تاکید فرمائی۔ اور کیسے کھول کر بیان کیا کہ ایماندار لوگ اپنی آنکھوں اور کانوں اور سترگاہوں کو ضبط میں رکھیں اور ناپاکی کے مواضع سے روکتے رہیں۔ اسی طرح زبان کو صدق و صواب پر قائم رکھنے کے لئے تاکید فرمائی۔ اور کہا۔33۔ الجزو نمبر ۲۲۔ ۲؂ یعنے وہ بات منہ پر لاؤ جو بالکل راست اور نہایت معقولیت