داخل نہ ہو وہ بھی بطور مفہوم کلی سمجھ سکتا ہے کہ جس کلام کو خدا کا کلام کہا جائے۔ اس کا
میں ہو۔ اور لغو اور فضول اور جھوٹ کا اس میں سرِمو دخل نہ ہو۔ اور پھر جمیع اعضاء کی وضع استقامت پر چلانے کے لئے ایک ایسا کلمہ جامعہ اور ُ پر تہدید بطور تنبیہ و انذار فرمایا جو غافلوں کو متنبہ کرنے کے لئے کافی ہے۔ اور کہا۔ 33ط الجزو نمبر ۵۱۔ ۱ یعنے کان اور آنکھ اور دل ایسا ہی تمام اعضاء اور قوتیں جو انسان میں موجود ہیں۔ ان سب کے غیر محل استعمال کرنے سے باز پرس ہوگی اور ہریک کمی و بیشی اور افراط اور تفریط کے بارہ میں سوال کیا جائے گا۔ اب دیکھو اعضاء اور تمام قوتوں کو مجری خیر اور صلاحیت پر چلانے کے لئے کس قدر تصریحات و تاکیدات خدا کے کلام میں موجود ہیں اور کیسے ہریک عضو کو مرکز اعتدال اور خط استوا پر قائم رکھنے کے لئے بکمال وضاحت بیان فرمایا گیا ہے جس میں کسی نوع کا ابہام و اجمال باقی نہیں رہا۔ کیا یہ تصریح و تفصیل صحیفہ قدرت کے کسی صفحہ کو پڑھ کر معلوم ہوسکتی ہے۔ ہرگز نہیں۔ سو اب تم آپ ہی سوچو کہ کھلا ہوا اور واضحہ صحیفہ یہ ہے یا وہ۔ اور فطرتی دلالتوں کے مصالحہ اور حدود کو اس نے بیان کیا یا اس نے۔ اے حضرات!! اگر اشارات سے کام نکلتا تو پھر انسان کو زبان کیوں دی جاتی۔ جس نے تم کو زبان دی کیا وہ آپ نطق پر قادر نہیں۔ جس نے تم کو بولنا سکھایا کیا وہ آپ بول نہیں سکتا۔ جس نے اپنے فعل میں یہ قدرت دکھلائی کہ اتنا بڑا عالم بغیر مدد کسی مادہ ہیولیٰ کے اور بغیر احتیاج معماروں اور مزدوروں و نجاروں کے بمجرد ارادہ سب کچھ بنا ڈالا کیا اس کی نسبت یہ کہنا جائز ہے کہ وہ بات کرنے پر قادر نہیں۔ یا قادر تو ہے مگر بباعث بخل کے اپنے کلام کے فیضان سے محروم رکھا۔ کیا یہ درست ہے کہ قادر مطلق کی نسبت ایسا خیال کیا جائے کہ وہ اپنی طاقتوں میں حیوانات سے بھی فروتر ہے۔ کیونکہ ایک ادنیٰ جانور بذریعہ اپنی آواز کے دوسرے جانور کو یقینی طور پر اپنے وجود کی خبر دے سکتا ہے۔ ایک مکھی بھی اپنی طنین سے دوسری مکھیوں کو اپنے آنے سے آگاہ کرسکتی ہے۔ پَر نعوذ باللہ بقول تمہارے اس قادر مطلق میں ایک مکھی جتنی بھی قدرت نہیں۔ پھر جب اس کی نسبت تمہارا صاف بیان