​ کی کلام سے اپنی ظاہری اور باطنی خوبیوں میں برابر سمجھا ہے۔ وما قدروا اللہؔ حق قدرہ کا مصداق ہوکر خدا کی ان عظیم الشان قدرتوں اور باریک حکمتوں کو بھی تسلیم کیا کہ جس نے اس صحیفہ کو پڑھ کر خدا کے وجود کو ضروری نہیں سمجھا وہ اس قدر عمر پالے گا کہ کبھی نہ کبھی اپنی غلطی پر متنبہ ہوجائے گا۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ اگر یہ صحیفہ کھلا ہوا تھا تو اس کو دیکھ کر ایسی بڑی بڑی غلطیاں کیوں پڑ گئیں۔ کیا آپ کے نزدیک کھلی ہوئی کتاب اسی کو کہتے ہیں جس کو پڑھنے والے خدا کے وجود میں ہی اختلاف کریں اور بسم اللہ ہی غلط ہو۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اسی صحیفہ فطرت کو پڑھ کر ہزارہا حکیم اور فلاسفر دہریئے اور طبعی ہوکر مرے۔ یا ُ بتوں کے آگے ہاتھ جوڑتے رہے اور وہی شخص ان میں سے راہ راست پر آیا جو الہام الٰہی پر ایمان لایا۔ کیا اس میں کچھ جھوٹ بھی ہے کہ فقط اس صحیفہ کے پڑھنے والے بڑے بڑے فیلسوف کہلا کر پھر خدا کے مدبّر و خالق بالارادہ اور عالم باِلجزئیات ہونے سے منکر رہے اور انکار ہی کی حالت میں مر گئے۔ کیا خدا نے تم کو اس قدر بھی سمجھ نہیں دی کہ جس خط کے مضمون کو مثلاً زید کچھ سمجھے اور بکر کچھ خیال کرے اور خالد ان دونوں کے برخلاف کچھ اور تصور کر بیٹھے تو اس خط کی تحریر کھلی ہوئی اور صاف نہیں کہلاتی بلکہ مشکوک اور مشتبہ اور مبہم کہلاتی ہے۔ یہ کوئی ایسی دقیق بات نہیں جس کے سمجھنے کے لئے باریک عقل درکار ہو بلکہ نہایت بدیہی صداقت ہے۔ مگر ان کا کیا علاجؔ جو سراسر تحکم کی راہ سے ظلمت کو نور اور نور کو ظلمت قرار دیں اور دن کو رات اور رات کو دن ٹھہراویں۔ ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ مطالب دلی کو پورا پورا بیان کرنے کے لئے یہی سیدھا راستہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہے کہ بذریعہ قول واضح کے اپنا مافی الضمیر ظاہر کیا جائے۔ کیونکہ دلی ارادوں کو ظاہر کرنے کے لئے صرف قوت نطقیہ آلہ ہے۔ اسی آلہ کے ذریعہ سے ایک انسان دوسرے انسان کے مافی القلب سے مطلع ہوتا ہے۔ اور ہریک امر جو اس آلہ کے ذریعہ سے سمجھایا نہ جائے وہ تفہیم کامل کے درجہ سے متنزل رہتا ہے۔ ہزارہا امور ایسے ہیں کہ اگر ہم ان میں فطرتی دلالت سے مطلب نکالنا چاہیں تو یہ امر ہمارے لئے غیر ممکن ہوجاتا ہے۔ اور اگر فکر بھی کریں تو غلطی میں پڑجاتے ہیں۔ مثلاً ظاہر ہے کہ خدا نے آنکھ دیکھنے کے لئے بنائی ہے۔ اور کان سننے کے لئے پیدا کئے ہیں۔ زبان بولنے کے لئے عطا کی ہے۔ اس قدر تو ہم نے ان اعضاء کی فطرت پر نظر کرکے اور ان کے خواص کو سوچ کر معلوم کرلیا۔ لیکن اگر ہم اسی فطرتی