روگردان اور منکر کردیا ہے۔ اور جنہوں نے مسلمانؔ کہلا کر اور قرآن شریف پر ایمان لاکر اور کلمہ گو بنکر پھر بھی بے ایمانوں کی طرح کلام الٰہی کو ایک ادنیٰ انسان
عظمت و قدرت شناخت کی جائے۔ جیسا دوسری جگہ بھی فرمایا ہے۔33333۔الجزو نمبر ۸۱۔ ۱ یعنے خدا نے ہریک جاندار کو پانی سے پیدا کیا۔ سو بعض جاندار پیٹ پر چلتے ہیں اور بعض دو پاؤں پر بعض چارپاؤں پر۔ خدا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ یہ بھی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا نے یہ مختلف چیزیں اس لئے بنائیں کہ تا مختلف قدرتیں اس کی ظاہر ہوں۔ غرض اختلاف طبائع جو فطرت مخلوقات میں واقع ہے۔ اس میں حکمتؔ الٰہیہ انہیں امور ثلاثہ میں منحصر ہے جن کو خدائے تعالیٰ نے آیات ممدوحہ میں بیان کردیا۔ فتدبّر۔
وسوسۂ ششم:۔ معرفت کامل کا ذریعہ وہ چیز ہوسکتی ہے جو ہر وقت اور ہر زمانہ میں کھلے طور پر نظر آتی ہو۔ سو یہ صحیفہ نیچر کی خاصیت ہے جو کبھی بند نہیں ہوتا اور ہمیشہ کھلا رہتا ہے اور یہی رہبر ہونے کے لائق ہے۔ کیونکہ ایسی چیز کبھی رہنما نہیں ہوسکتی جس کا دروازہ اکثر اوقات بند رہتا ہو اور کسی خاص زمانہ میں کھلتا ہو۔
جواب۔ صحیفہ فطرت کو بمقابلہ کلام الٰہی کھلا ہوا خیال کرنا یہی آنکھوں کے بند ہونے کی نشانی ہے۔ جن کی بصیرت اور بصارت میں کچھ خلل نہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ اسی کتاب کو کھلے ہوئے کہا جاتا ہے جس کی تحریر صاف نظر آتی ہو جس کے پڑھنے میں کوئی اشتباہ باقی نہ رہتا ہو۔ پر کون ثابت کرسکتا ہے کہ مجرد صحیفہ قدرت پر نظر کرنے سے کبھی کسی کا اشتباہ دور ہوا؟ کس کو معلوم ہے کہ اس نیچری تحریر نے کبھی کسی کو منزل مقصود تک پہنچایا ہے؟ کون دعویٰ کرسکتا ہے کہ میں نے صحیفہ قدرت کے تمام دلالات کو بخوبی سمجھ لیا ہے؟ اگر یہ صحیفہ کھلا ہوا ہوتا تو جو لوگ اسی پر بھروسہ کرتے تھے وہ کیوں ہزارہا غلطیوں میں ڈوبتے۔ کیوں اسی ایک صحیفہ کو پڑھ کر باہم اس قدر مختلف الرائے ہوجاتے کہ کوئی خدا کے وجود کا کسی قدر قائل اور کوئی سرے سے انکاری۔ ہم نے بفرض محال یہ