جن کو انگریزی کی سوفسطائی اورؔ مغشوش تعلیموں نے مغرور اور کور باطن کرکے فرقان مجید کے بے مثل و مانند ہونے سے جو کہ اس کے منجانب اللہ ہونے کے لئے خاصہ لازمی ہے ​ انصاف و خدا ترسی ایک قانون پر موقوف ہے جس میں دقائق معدلت و حقائق معرفت الٰہی بدرستی تمام درج ہوں اور سہواً یا عمداً کسی نوع کا ظلم یا کسی نوع کی غلطی نہ پائی جاوے۔ اور ایسا قانون اسی کی طرف سے صادر ہوسکتا ہے جس کی ذات سہو و خطا و ظلم و تعدی سے بکلی پاک ہو اور نیز اپنی ذات میں واجب الانقیاد اور واجبؔ التعظیم بھی ہو۔ کیونکہ گو کوئی قانون عمدہ ہو مگر قانون کا جاری کرنے والا اگر ایسا نہ ہو جس کو باعتبار مرتبہ اپنے کے سب پر فوقیت اور حکمرانی کا حق ہو یا اگر ایسا نہ ہو جس کا وجود لوگوں کی نظر میں ہریک طور کے ظلم و خبث اور خطا اور غلطی سے پاک ہو تو ایسا قانون اول تو چل ہی نہیں سکتا اور اگر کچھ دن چلے بھی تو چند ہی روز میں طرح طرح کے مفاسد پیدا ہوجاتے ہیں اور بجائے خیر کے شرکا موجب ہوجاتا ہے۔ ان تمام وجوہ سے کتاب الٰہی کی حاجت ہوئی کیونکہ ساری نیک صفتیں اور ہریک طور کی کمالیت و خوبی صرف خدا ہی کی کتاب میں پائی جاتی ہے وبس۔ دوم۔ حکمت تفاوتِ مراتب رکھنے میں یہ ہے کہ تا نیک اور پاک لوگوں کی خوبی ظاہر ہو کیونکہ ہر یک خوبی مقابلہ ہی سے معلوم ہوتی ہے۔ جیسے فرمایا ہے۔33 ۱؂ الجزو نمبر ۵۱ یعنے ہم نے ہر یک چیز کو جو زمین پر ہے زمین کی زینت بنا دیا ہے تا جو لوگ صالح آدمی ہیں۔ بمقابلہ برے آدمیوں کے ان کی صلاحیت آشکارا ہوجائے اور کثیف کے دیکھنے سے لطیف کی لطافت کھل جائے۔ کیونکہ ضد کی حقیقت ضد ہی سے شناخت کی جاتی ہے اور نیکوں کا قدر و منزلت بدوں ہی سے معلوم ہوتا ہے۔ سوم۔ حکمت تفاوت مراتب رکھنے میں انواع و اقسام کی قدرتوں کا ظاہر کرنا اور اپنی عظمت کی طرف توجہ دلانا ہے۔ جیسا فرمایا۔ 33 ۱؂ نمبر ۹۲۔ یعنے تم کو کیا ہوگیا کہ تم خدا کی عظمت کے قائل نہیں ہوتے حالانکہ اس نے اپنی عظمت ظاہر کرنے کیلئے تم کو مختلف صورتوں اور سیرتوں پر پیدا کیا۔ یعنے اختلافِ استعدادات و طبائع اسی غرض سے حکیم مطلق نے کیا۔ تا اُس کی