اگرچہؔ یہاں تک جو کچھ کلام الٰہی کی بے نظیری کے بارے میں بیان کیا گیا ہے وہ اس زمانہ کے بعض ناقص الفہم اور آزاد مشرب مسلمانوں کے لئے بیان ہوا ہے
ہم نے اسؔ لئے بعض کو دولت مند اور بعض کو درویش اور بعض کو لطیف طبع اور بعض کو کثیف طبع اور بعض طبیعتوں کو کسی پیشہ کی طرف مائل اور بعض کو کسی پیشہ کی طرف مائل رکھا ہے تا ان کو یہ آسانی پیدا ہوجائے کہ بعض کے لئے بعض کار برار اور خادم ہوں اور صرف ایک پر بھار نہ پڑے اور اس طور پر مہمات بنی آدم بآسانی تمام چلتے رہیں۔ اور پھر فرمایا کہ اس سلسلہ میں دنیا کے مال و متاع کی نسبت خدا کی کتاب کا وجود زیادہ تر نفع رساں ہے۔ یہ ایک لطیف اشارہ ہے جو ضرورت الہام کی طرف فرمایا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ انسان مدنی الطبع ہے اور بجز ایک دوسرے کی مدد کے کوئی امر اس کا انجام پذیر نہیں ہوسکتا۔ مثلاً ایک روٹی کو دیکھئے جس پر زندگانی کا مدار ہے۔ اس کے طیار ہونے کے لئے کس قدر تمدن و تعاون درکار ہے۔ زراعت کے تردّد سے لیکر اس وقت تک کہ روٹی پک کر کھانے کے لائق ہوجائے بیسیوں پیشہ وروں کی اعانت کی ضرورت ہے۔ پس اِس سے ظاہر ہے کہ عام امور معاشرت میں کس قدر تعاون اور باہمی مدد کی ضرورت ہوگی۔ اسی ضرورت کے انصرام کے لئے حکیم مطلق نے بنی آدم کو مختلف طبیعتوں اور استعدادوں پر پیدا کیا تا ہریک شخص اپنی استعداد اور میل طبع کے موافق کسی کام میں بہ طیبِ خاطر مصروف ہو۔ کوئی کھیتی کرے۔ کوئی آلاتِ زراعت بناوے۔ کوئی آٹا پیسے۔ کوئی پانی لاوے۔ کوئی روٹی پکاوے کوئی سوت کاتے۔ کوئی کپڑا بنے۔ کوئی دوکان کھولے۔ کوئی تجارت کا اسباب لاوے۔ کوئی نوکری کرے اور اس طرح پر ایک دوسرے کے معاون بن جائیں اور بعض کو بعض مدد پہنچاتے رہیں۔ پس جب ایک دوسرے کی معاونت ضروری ہوئی تو ان کا ایک دوسرے سے معاملہ پڑنا بھی ضروری ہوگیا۔ اور جب معاملہ اور معاوضہ میں پڑگئے اور اس پر غفلت بھی جو استغراق امور دنیا کا خاصہ ہے عائد حال ہوگئی تو ان کے لئے ایک ایسے قانون عدل کی ضرورت پڑی جو ان کو ظلم اور تعدی اور بغض اور فساد اور غفلت من اللہ سے روکتا رہے تا نظام عالم میں ابتری واقعہ نہ ہو۔ کیونکہ معاش و معاد کا تمام مدار انصاف و خدا شناسی پر ہے اور التزام