یہؔ کیسے پڑ گئے دل پر تمہارے جہل کے پردے
خطا کرتے ہو باز آؤ اگر کچھ خوف یزداں ہے
ہمیں کچھ کیں نہیں بھائیو! نصیحت ہے غریبانہ
کوئی جوپاک دل ہووے دل وجاں اُس پہ قرباں ہے
ختم نہیں تو اس صورت میں سلسلہ سوالات مخلوق کبھی ختم نہ ہوگا اور ہریک مرتبہ پیدائش پر الیٰ غیر النہایت اس کو اپنے حق کے مطالبہ کا استحقاق حاصل ہوگا اور یہی تسلسل ہے۔
ہاں اگر یہ جستجو ہے کہ اس تفاوت مراتب رکھنے میں حکمت کیا ہے۔ تو سمجھنا چاہیئے کہ اس بارہ میں قرآن شریف نے تین حکمتیں بیان فرمائی ہیں جو عندالعقل نہایت بدیہی اور روشن ہیں جن سے کوئی عاقل انکار نہیں کرسکتا اور وہ بہ تفصیل ذیل ہیں:۔
اول۔ یہ کہ تا مہمات دنیا یعنے امور معاشرت باحسن وجہ صورت پذیر ہوں جیسا فرمایا ہے۔ 3333 33 ۱ الجزو نمبر ۵۲۔ یعنے کفار کہتے ہیں کہ یہ قرآن مکہ اور طائف کے بڑے بڑے مالداروں اور رئیسوں میں سے کسی بھاری رئیس اور دولتمند پر کیوں نازل نہ ہوا۔ تا اس کی رئیسانہ شان کے شایان ہوتا اور نیز اس کے رعب اور سیاست اور مال خرچ کرنے سے جلد تر دین پھیل جاتا۔ ایک غریب آدمی جس کے پاس دنیا کی جائداد میں سے کچھ بھی نہیں کیوں اس عہدہ سے ممتاز کیا گیا (پھر آگے بطور جواب فرمایا) اَھُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّکَ کیا قسام ازل کی رحمتوں کو تقسیم کرنا ان کا اختیار ہے۔ یعنی یہ خداوند حکیم مطلق کا فعل ہے کہ بعضوں کی استعدادیں اور ہمتیں پست رکھیں اور وہ زخارف دنیا میں پھنسے رہے اور رئیس اور امیر اور دولتمند کہلانے پر پھولتے رہے اور اصل مقصود کو بھول گئے اور بعض کو فضائل روحانیت اور کمالات قدسیہ عنایت فرمائے اور وہ اس محبوب حقیقی کی محبت میں محو ہوکر مقرب بن گئے اور مقبولانِ حضرت احدیت ہوگئے۔ (پھر بعد اس کے اس حکمت کی طرف اشارہ فرمایا کہ جو اس اختلاف استعدادات اور تباین خیالات میں مخفی ہیں