​ خداؔ سے غیر کو ہمتا بنانا سخت کفراں ہے ​ خدا سے کچھ ڈرو یا رویہ کیسا کذب و بہتاں ہے اگر اقرار ہے تم کو خدا کی ذات واحد کا ​ توپھر کیوں اسقدر دل میں تمہارے شرک پنہاں ہے اور اگر یہ کہو کہ جن تک کتاب الہامی نہیں پہنچی ان کی نجات کا کیا حال ہے۔ اس کا یہ جواب ہے کہ اگر ایسے لوگ بالکل وحشی اور عقل انسانی سے بے بہرہ ہیں تو وہ ہریک باز پرس سے بری اور مرفوع القلم ہیں اور مجانین اور مسلوب الحواسوں کا حکم رکھتے ہیں۔ لیکن جن میں کسی قدر عقل اور ہوش ہے ان سے بقدر عقل ان کی محاسبہ ہوگا۔ اور اگر دل میں یہ وہم گزرتا ہو کہ خدا نے مختلف طبائع کیوں پیدا کیں اور کیوں سب کو ایسی قوتیں عنایت نہ فرمائیں جن سے وہ معرفت کاملہ اور محبت کاملہ کے درجہ تک پہنچ جاتے تو یہ سوال بھی خدا کے کاموں میں ایک فضول دخل ہے جو ہرگز جائز نہیں۔ ہریک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ تمام مخلوقات کو ایک ہی درجے پر رکھنا اور سب کو اعلیٰ کمالات کی قوتیں بخشنا خدا پر حق واجب نہیں۔ یہ تو صرف اس کا فضل ہے۔ اسے اختیار ہے جس پر چاہے کرے اور جس پر چاہے نہ کرے۔ مثلاً تم کو خدا نے آدمی بنایا اور گدھے کو آدمی نہ بنایا۔ تم کو عقل دی اور اس کو نہ دی۔ یا تمہارے لئے علم حاصل ہوا اور اس کو نہ ہوا۔ یہ سب مالک کی مرضی کی بات ہے کوئی ایسا حق نہیں کہ تمہارا تھا اور اس کا نہ تھا۔ غرض جس حالت میں خدا کی مخلوقات میں صریح تفاوت مراتب پایا جاتا ہے جس کے تسلیم کرنے سے کسی عاقل کو چارہ نہیں۔ تو کیا مالک بااختیار کے سامنے ایسی مخلوقات جن کا موجود ہونے میں بھی کوئی حق نہیں چہ جائیکہ بڑا بننے میں کوئی حق ہو کچھ دم مار سکتی ہے۔ خدائے تعالیٰ کا بندوں کو خلعت وجود بخشنا ایک عطا اور احسان ہے اور ظاہر ہے کہ معطی و محسن اپنی عطا اور احسان میں کمی بیشی کا اختیار رکھتا ہے۔ اور اگر اس کو کم دینے کا اختیار نہ ہو تو پھر زیادہ دینے کا بھی اختیار نہ ہو۔ تو اس صورت میں وہ مالکانہ اختیارات کے نافذ کرنے سے بالکل قاصر رہ جائے۔ اور خود ظاہر ہے کہ اگر مخلوق کا خالق پر خواہ نخواہ کوئی حق قرار دیا جائے تو اس سے تسلسل لازم آتا ہے۔ کیونکہ جسؔ درجہ پر خالق کسی مخلوق کو بنائے گا اسی درجہ پر وہ مخلوق کہہ سکتا ہے کہ میرا حق اس سے زیادہ ہے۔ اور چونکہ خدائے تعالیٰ غیر متناہی مراتب پر بناسکتا ہے اور اس کی لاانتہا قدرت کے آگے صرف آدمی بنانے پر فضیلت پیدائش