​ بہارؔ جاوداں پیدا ہے اس کی ہر عبارت میں ​ نہ وہ خوبی چمن میں ہے نہ اس سا کوئی بستاں ہے کلام پاک یزداں کا کوئی ثانی نہیں ہرگز ​ اگر لولوئے عماں ہے وگر لعل بدخشاں ہے ​ 33 3O3 3 O3 3 O3O33 O ۱؂ الجزو نمبر ۱ ۔33O3O33۲؂ الجزو نمبر ۸۲۔ آیات مندرجۂ بالا میں پہلے اس آیت پر یعنے 3 پر غور کرنا چاہیئے کہ کس لطافت اور خوبی اور رعایت ایجاز سے خدائے تعالیٰ نے وسوسۂ مذکور کا جواب دیا ہے۔ اوّل قرآن شریف کے نزول کی علت فاعلی بیان کی اور اس کی عظمت اور بزرگی کی طرف اشارہ فرمایا اور کہا آآمآ میں خدا ہوں جو سب سے زیادہ جانتا ہوں۔ یعنی نازل کنندہ اس کتاب کا میں ہوں جو علیم و حکیم ہوں جس کے علم کے برابر کسی کا علم نہیںؔ ۔ پھر بعد اس کے علت مادی قرآن کے بیان میں فرمائی اور اس کی عظمت کی طرف اشارہ فرمایا اور کہا ذَالِکَ الْکِتَابُوہ کتاب ہے یعنے ایسی عظیم الشان اور عالی مرتبت کتاب ہے جس کی علت مادی علم الٰہی ہے یعنی جس کی نسبت ثابت ہے کہ اس کا منبع اور چشمہ ذات قدیم حضرت حکیم مطلق ہے۔ اس جگہ اللہ تعالیٰ نے وہ کا لفظ اختیار کرنے سے جو ُ بعد اور دوری کے لئے آتا ہے۔ اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ کتاب اس ذاتِ عالی صفات کے علم سے ظہور پذیر ہے جو اپنی ذات میں بے مثل و مانند ہے جس کے علومِ کاملہ و اسرار دقیقہ نظر انسانی کی حد جولان سے بہت بعید اور دور ہیں۔ پھر بعد اس کے علت صوری کا قابل تعریف