خداؔ کے قول سے قول بشر کیونکر برابر ہو
وہاں قدرت یہاں درماندگی فرق نمایاں ہے
ملائک جس کی حضرت میں کریں اقرار لاعلمی
سخن میں اس کے ہمتائی کہاں مقدور انساں ہے
ہونا ظاہر فرمایا اور کہا لَارَیْبَ فِیْہِ یعنے قرآن اپنی ذات میں ایسی صورت مدلل و معقول پر واقعہ ہے کہ کسی نوع کے شک کرنے کی اس میں گنجائش نہیں۔ یعنی وہ دوسری کتابوں کی طرح بطور کتھا اور کہانی کے نہیں۔ بلکہ ادلّۂِ یقینیہ و براہین قطعیہ پر مشتمل ہے اور اپنے مطالب پر حجج بینہ اور دلائل شافیہ بیان کرتا ہے اور فی نفسہ ایک معجزہ ہے جو شکوک اور شبہات کے دور کرنے میں سیف قاطع کا حکم رکھتا ہے۔ اور خدا شناسی کے بارے میں صرف ہونا چاہیئے کے ظنی مرتبہ میں نہیں چھوڑتا بلکہ ہے کے یقینی اور قطعی مرتبہ تک پہنچاتا ہے۔ یہ تو علل ثلاثہ کی عظمت کا بیان فرمایا اور پھر باوجود عظیم الشان ہونے ان ہرسہ علتوں کے جن کو تاثیر اور اصلاح میں دخل عظیم ہے۔ علت رابعہ یعنے علت غائی نزول قرآن شریف کو جو رہنمائی اور ہدایت ہے صرف متقین میں منحصر کردیا اور فرمایا ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْن یعنے یہ کتاب صرف ان جواہر قابلہ کی ہدایت کے لئے نازل کی گئی ہے جو بوجہ پاک باطنی و عقل سلیم و فہم مستقیم و شوق طلب حق و نیت صحیح انجام کار درجہ ایمان و خداشناسی و تقویٰ کامل پر پہنچ جائیں گے۔ یعنے جن کو خدا اپنے علم قدیم سے جانتا ہے کہ ان کی فطرت اس ہدایت کے مناسب حال واقعہ ہے۔ اور وہ معارف حقانی میں ترقی کرسکتے ہیں۔ وہ بالآخر اس کتاب سے ہدایت پاجائیں گے اور بہرحال یہ کتاب ان کو پہنچ رہے گی۔ اور قبل اس کے جو وہ مریں۔ خدا ان کو راہ راست پر آنے کی توفیق دے دے گا۔ اب دیکھو اسؔ جگہ خدائے تعالیٰ نے صاف فرمادیا کہ جو لوگ خدائے تعالیٰ کے علم میں ہدایت پانے کے لائق ہیں اور اپنی اصل فطرت میں صفت تقویٰ سے متصف ہیں وہ ضرور ہدایت پاجائیں گے۔ اور پھر ان آیات میں جو اس آیت کے بعدمیں لکھی گئی ہیں اسی کی زیادہ تر تفصیل کردی اور فرمایا کہ جس قدر لوگ (خدا کے علم میں)ایمان لانے والے ہیں وہ اگرچہ ہنوز مسلمانوں میں شامل نہیں ہوئے پر آہستہ آہستہ سب شامل ہوجائیں گے اور وہی لوگ باہر رہ جائیں گے جن کو