​ نظیر اس کی نہیں جمتی نظر مین فکر کر دیکھا ​ بھلا کیونکر نہ ہو یکتا کلامِ پاک رحماں ہے ​ پیش کرے اور جو جو اس کے کمالات خاصہ ہیں کسی دوسری کتاب میں نکال کر دکھلائے تا اس قدر ثابت ہوجائے کہ اگرچہ تکمیل مراتب یقین و معرفت کے لئے الہامی کتاب کی اشد ضرورت ہے مگر ایسی کتاب دنیا میں موجود نہیں۔ لیکن اگر کوئی مخاصم ان باتوں میں سے کسی بات کا جواب نہ دے بلکہ دم بھی نہ مارسکے تو پھر آپ اس کو انصاف کرنا چاہیئے کہ جس حالت میں ایک صداقت پختہ دلائل سے ثابت ہوچکی ہے جس کا ردّ اس کے پاس موجود نہیں۔ نہ اس کی دلائل کو وہ توڑ سکتا ہے۔ تو پھر ثبوت قطعی کے مقابلہ پر اوہام فاسدہ پیش کرنا کس قدر دیانت اور ایمانداری سے بعید ہے۔ سارا جہان جانتا ہے کہ جس امر کی صحت و حقانیت براہین قاطعہ سے بہ پایہ ثبوت پہنچ چکی ہو۔ جب تک وہ براہین نہ توڑی جائیں تب تک وہ امر ایک ثابت شدہ صداقت ہے جو صرف واہی خیالوں سے غلط نہیں ٹھہر سکتی۔ کیا وہ مکان جس کی بنیاد اور دیواریں اور چھت نہایت مضبوط ہے۔ وہ صرف مونہہ کی پھوک سے گر سکتا ہے؟ اور خود یہ شبہ کہ خدا نے اپنی کتاب کو تمام ملکوں میں کیوں شائع نہ کیا اور کیوں تمام طبائع مختلفہ اس سے منتفع نہ ہوئیں صرف ایک سودائیوں کا سا خیال ہے۔ اگر آفتابِ عالمتاب کی ؔ روشنی بعض امکنہ ظلمانیہ تک نہیں پہنچی۔ یا اگر بعض نے الو کی طرح آفتاب کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلیں تو کیا اس سے یہ لازم آجائے گا کہ آفتاب منجانب اللہ نہیں؟ اگر مینہ کسی زمین شور پر نہیں پڑا یا کوئی کلری زمین اس سے فیض یاب نہیں ہوئی تو کیا اس سے وہ باران رحمت انسان کا فعل خیال کیا جائے گا؟ ایسے اوہام دور کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے آپ ہی قرآن شریف میں بکمال وضاحت اس بات کو کھول دیا ہے کہ الہام الٰہی کی ہدایت ہریک طبیعت کے لئے نہیں بلکہ ان طبائع صافیہ کے لئے ہے جو صفت تقویٰ اور صلاحیت سے متصف ہیں۔ وہی لوگ ہدایت کاملہ الہام سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور اس سے منتفع ہوتے ہیں اور ان تک الہام الٰہی بہرصورت پہنچ جاتا ہے۔ چنانچہ بعض آیات اُن میں سے ذیل میں لکھی جاتی ہیں۔