جمالؔ و حسن قرآں نور جانِ ہر مسلماں ہے ​ قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے اندرونی کا قوت عقلیہ ہے۔ پھر ان تمام نوروں پر ایک نور آسمانی کا جو وحی ہے نازل ہونا بیان فرمایا۔ یہ نور وحی ہے۔ اور انوار ثلاثہ مل کر لوگوں کی ہدایت کا موجب ٹھہرے۔ یہی حقانی اصول ہے جو وحی کے بارہ میں قدوس قدیم کی طرف سے قانون قدیم ہے اور اس کی ذات پاک کے مناسب۔ پس اس تمام تحقیقات سے ثابت ہے کہ جب تک نور قلب و نور عقل کسی انسان میں کامل درجہ پر نہ پائے جائیں تب تک وہ نور وحی ہرگز نہیں پاتا اور پہلے اس سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ کمالِ عقل اور کمالِ نورانیت قلب صرف بعض افراد بشریہ میں ہوتا ہے کل میں نہیں ہوتا۔ اب ان دونوں ثبوتوں کے ملانے سے یہ امر بپایہ ثبوت پہنچ گیا کہ وحی اور رسالت فقط بعض افراد کاملہ کو ملتی ہے نہ ہریک فردِ بشر کو۔ پس اس قطعی ثبوت سے برہم سماج والوں کا خیال فاسد بکلی درہم برہم ہوگیا اور یہی مطلب تھا۔ وسوسۂ پنجم۔ بعض برہمو سماج والے یہ وسوسہ پیش کیا کرتے ہیں کہ اگر کامل معرفت قرآن پر ہی موقوف ہےؔ تو پھر خدا نے اس کو تمام ملکوں میں اور تمام معمورات قدیم و جدید میں کیوں شائع نہ کیا اور کیوں کروڑہا مخلوقات کو اپنی معرفت کاملہ اور اعتقاد صحیح سے محروم رکھا۔ جواب۔ یہ وسوسہ بھی کوتہ اندیشی سے پیدا ہوا ہے کیونکہ جس حالت میں بکمال صفائی ثابت ہوچکا ہے کہ حصولِ یقین کامل و معرفت کامل مجر د عقل کے ذریعہ سے ہرگز ممکن نہیں۔ بلکہ وہ اعلیٰ درجہ کا یقین اور کامل عرفان صرف ایسے الہام کے ذریعہ سے ملتا ہے جو اپنی ذات اور کمالات میں بے مثل و مانند ہو اور بوجہ بے نظیری منجانب اللہ ہونا اس کا بین الثبوت ہو۔ اور نیز ہم نے کتاب ہذا میں یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ وہ بے مثل کتاب جو دنیا میں پائی جاتی ہے فقط قرآن شریف ہے وبس۔ تو اس صورت میں سیدھا راستہ طالب حق کے لئے یہ ہے کہ یا تو ہماری دلائل کو توڑ کر یہ ثابت کرکے دکھلا دے کہ مجرد عقل انسان کو امور معاد میں یقین کامل و معرفت صحیحہ و یقینیہ کے مرتبہ تک پہنچا سکتی ہے اور اگر یہ ثابت نہ کرسکے تو پھر قرآن شریف کی حقانیت کو قبول کرے جس کے ذریعہ سے معرفت کامل کا مرتبہ حاصل ہوتا ہے۔ اور اگر اس کو بھی قبول کرنا منظور نہ ہو تو پھر اس کی کوئی نظیر