یا دھندلا جاتی ہیں۔ اس لئے تم مگس طینتی سے مگس ہی کی عظمت کے قائل ہو خدا کے نور کی عظمت کے قائل نہیں۔ جن لفظوں کوؔ کہتے ہو کہ معانی کی طرح وہ بھی خدا ہی کے مونہہ
ہوئے نکلتے ہیں جن کوکو کب دری کہتے ہیں(یعنے حضرت خاتم الانبیاء کا دل ایسا صاف کہ کوکب دری کی طرح نہایت منور اور درخشندہ جس کی اندرونی روشنی اس کے بیرونی قالب پر پانی کی طرح بہتی ہوئی نظر آتی ہے) وہ چراغ زیتون کے شجرۂ مبارکہ سے (یعنی زیتون کے روغن سے) روشن کیا گیا ہے (شجرہ مبارکہ زیتون سے مراد وجودِ مبارک محمدی ہے کہ جو بوجہ نہایت جامعیت و کمال انواع و اقسام کی برکتوں کا مجموعہ ہے جس کا فیض کسی جہت و مکان و زمان سے مخصوص نہیں۔ بلکہ تمام لوگوں کے لئے عام علیٰ سبیل الدوام ہے اور ہمیشہ جاری ہے کبھی منقطع نہیں ہوگا) اور شجرۂ مبارکہ نہ شرقی ہے نہ غربی (یعنے طینت پاک محمدی میں نہ افراط ہے نہ تفریط۔ بلکہ نہایت توسط و اعتدال پر واقع ہے اور احسن تقویم پر مخلوق ہے۔ اور یہ جو فرمایا کہ اس شجرہ مبارکہ کے روغن سے چراغِ وحی روشن کیا گیا ہے۔ سو روغن سے مراد عقل لطیف نورانی محمدی معہ جمیع اخلاق فاضلہ فطرتیہ ہے جو اس عقل کامل کے چشمۂ صافی سے پروردہ ہیں۔ اور وحی کا چراغ لطائف محمدیہ سے روشن ہونا ان معنوں کرکے ہے کہ ان لطائف قابلہ پر وحی کا فیضان ہوا اور ظہور وحی کا موجب وہی ٹھہرے۔ اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ فیضانِ وحی ان لطائف محمدیہ کے مطابق ہوا۔ اور انہیں اعتدالات کے مناسب حال ظہورؔ میں آیا کہ جو طینت محمدیہ میں موجود تھی۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہریک وحی نبی منزل علیہ کی فطرت کے موافق نازل ہوتی ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مزاج میں جلال اور غضب تھا۔ توریت بھی موسوی فطرت کے موافق ایک جلالی شریعت نازل ہوئی۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے مزاج میں حلم اور نرمی تھی۔ سو انجیل کی تعلیم بھی حلم اور نرمی پر مشتمل ہے۔ مگر آنحضرت صلوسلم عل کا مزاج بغایت درجہ وضع استقامت پر واقعہ تھا نہ ہر جگہ حلم پسند تھا اور نہ ہر مقام غضب مرغوب خاطر تھا۔ بلکہ حکیمانہ طور پر رعایت محل اور موقعہ کی ملحوظ طبیعت مبارک تھی۔ سو قرآن شریف بھی اسی طرز موزون و معتدل پر نازل ہوا کہ جامع شدت و رحمت و ہیبت و شفقت و نرمی و درشتی ہے۔ سو اس جگہ اللہ تعالیٰ