جس کو تم مچھر اور مکھی میں اور درختوں کے ہر یک پتے میں خوب سمجھتے اور تسلیم کرتے ہو۔ مگر اس ربانی نورؔ کے دیکھنے کے وقت تمہاری آنکھیں الو کی طرح اندھی ہوجاتی ہیں خاک اور افلاک اور انسان اور حیوان اور حجر اور شجر اور روح اور جسم سب اُسی کے فیضان سے وجود پذیر ہیں۔ یہ تو عام فیضان ہے جس کا بیان آیت 3۔ میں ظاہر فرمایا گیا۔ یہی فیضان ہے جس نے دائرہ کی طرح ہریک چیز پر احاطہ کررکھا ہے جس کے فائض ہونے کے لئے کوئی قابلیت شرط نہیں۔ لیکن بمقابلہ اس کے ایک خاص فیضان بھی ہے جو مشروط بشرائط ہے اور انہیں افراد خاصہ پر فائض ہوتا ہے جن میں اس کے قبول کرنے کی قابلیت و استعداد موجود ہے۔ یعنی نفوس کاملہ انبیاء علیھم السلام پر جن میں سے افضل و اعلیٰ ذات جامع البرکات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے دوسروں پر ہرگز نہیں ہوتا۔ اور چونکہ وہ فیضان ایک نہایت باریک صداقت ہے اور دقائق حکمیہ میں سے ایک دقیق مسئلہ ہے۔ اس لئے خداوند تعالیٰ نے اول فیضان عام کو (جو بدیہی الظہور ہے) بیان کرکے پھر اس فیضان خاص کو بغرض اظہار کیفیت نور حضرت خاتم الانبیاء صلوسلم عل ایکؔ مثال میں بیان فرمایا ہے کہ جو اس آیت سے شروع ہوتی ہے۔3۔ الخ۔ اور بطور مثال اس لئے بیان کیا کہ تا اس دقیقہ نازک کے سمجھنے میں ابہام اور دقت باقی نہ رہے۔ کیونکہ معانی معقولہ کو صور محسوسہ میں بیان کرنے سے ہریک غبی و بلید بھی بآسانی سمجھ سکتا ہے۔ بقیہ ترجمہ آیات ممدوحہ یہ ہے۔ اس نور کی مثال (فرد کامل میں جو پیغمبر ہے) یہ ہے جیسے ایک طاق (یعنے سینہ مشروح حضرت پیغمبر خدا صلوسلم عل ) اور طاق میں ایک چراغ (یعنے وحی اللہ) اور چراغ ایک شیشہ کی قندیل میں جو نہایت مصفیٰ ہے۔ (یعنے نہایت پاک اور مقدس دل میں جو آنحضرت صلوسلم عل کا دل ہے جو کہ اپنی اصل فطرت میں شیشہ سفید اور صافی کی طرح ہریک طور کی کثافت اور کدورت سےُ منزّ ہ اور مطہر ہے۔ اور تعلقات ماسوی اللہ سے بکلی پاک ہے) اور شیشہ ایسا صاف کہ گویا ان ستاروں میں سے ایک عظیم النور ستارہ ہے جو کہ آسمان پر بڑی آب و تاب کے ساتھ چمکتے