سے نکلے ہیں اُن کو تم اس لعاب کے برابر نہیں سمجھتے کہ جو مکھی کے منہ سے نکلتا ہے نے ظاہر فرمایا کہ چراغِ وحی فرقان اس شجرۂ مبارکہ سے روشن کیا گیا ہے کہ نہ شرقی ہے اور نہ غربی۔ یعنے طینت معتدلہ محمدؐیہ کے موافق نازل ہوا ہے جس میں نہ مزاج موسوی کی طرح درشتی ہے۔ نہ مزاج عیسوی کی مانند نرمی۔ بلکہ درشتی اور نرمی اور قہر اور لطف کا جامع ہے۔ اور مظہر کمال اعتدال اور جامع بین الجلال والجمال ہے اور اخلاق معتدلہ فاضلہ آنحضرت صلوسلم عل کہ جو بمعیت عقل لطیف روغن ظہور روشنی وحی قرار پائی۔ ان کی نسبت ایک دوسرے مقام میں بھی اللہ تعالیٰ نے آنحضرت کو مخاطب کرکے فرمایا ہے اور وہ یہ ہے3۱؂ الجزو نمبر ۹۲ یعنے تو اے نبی ایک خلق عظیم پر مخلوق و مفطور ہے یعنے اپنی ذات میں تمام مکارم اخلاق کا ایسا متمم و مکمل ہے کہ اس پر زیادت متصور نہیں کیونکہ لفظ عظیم محاورۂ عرب میں اس چیز کی صفت میں بولا جاتا ہے جس کو اپنا نوعی کمال پورا پورا حاصل ہو۔ مثلاً جب کہیں کہ یہ درخت عظیم ہے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ جس قدر طول و عرض درخت میں ہوسکتا ہے وہ سب اس میں موجود ہے۔ اور بعضوں نے کہا ہے کہ عظیم وہ چیز ہے جس کی عظمت اس حد تک پہنچ جائے کہ حیطۂ ادراک سے باہر ہو۔ اور خلق کے لفظ سے قرآن شریف اور ایسا ہی دوسری کتب حکمیہ میں صرف تازہ روی اور حسنِ اختلاط یا نرمی و تلطف و ملائمت( جیسا عوام الناس خیال کرتے ہیں) مراد نہیں ہے بلکہَ خلق بفتح خا اورُ خلق بضم خا دو لفظ ہیں جو ایک دوسرے کے مقابل واقعہ ہیں۔ خلق بفتح خا سے مراد وہ صورت ظاہری ہے جو انسان کو حضرت واہب الصور کی طرف سے عطا ہوئی۔ جس صورت کے ساتھ وہ دوسرے حیوانات کی صورتوں سے ممیز ہے۔ اورُ خلق بضم خا سے مراد وہ صورت باطنی یعنے خواص اندرونی ہیں جن کی رو سے حقیقت انسانیہ حقیقت حیوانیہ سے امتیاز کلی رکھتی ہے۔ پس جس قدر انسان میں منؔ حیث الانسانیت اندرونی خواص پائے جاتے ہیں اور شجرہ انسانیت کو نچوڑ کر نکل سکتے ہیں جو کہ انسان اور حیوان میں من حیث الباطن مابہ الامتیاز ہیں۔ اُن سب کا نام خُلق ہے۔ اور چونکہ شجرۂ فطرتِ انسانی اصل میں توسط اور اعتدال پر واقعہ ہے۔ اور ہریک افراط و تفریط سے جو قویٰ حیوانیہ میں پایا جاتا ہے منزّ ہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ