بلکہ بطور بحث اور مجادلہ کے یہ حجت پیش کرتے ہو کہ گو اب تک کوئی انسان اسؔ کے بنانے پر قادر نہیں ہوا مگر اس کا کیا ثبوت ہے کہ آئندہ بھی قادر نہ ہو۔ نادانو!اس کا وہی ثبوت ہے کہ اس قسم کے باطل پرستوں کے اقوال سے حقیقی سچائی کا کچھ بھی نقصان نہیں اور ان کے بیہودہ بکنے سے جو صداقت اپنی ذات میں بین الثبوت ہے وہ بدل نہیں سکتی۔ بلکہ وہی لوگ جھوٹ بول کر اور سچائی کا راستہ چھوڑ کر آپ رسوا ہوتے ہیں اور دانشمندوں کی نظر سے گر جاتے ہیں۔ وحی اللہ کے پانے کے لئے تقدس کامل شرط ہونا کچھ ایسا امر نہیں ہے جس کے ثبوت کے دلائل کمزور ہوں یا جس کا سمجھنا سلیم العقل آدمی پر کچھ مشکل ہو۔ بلکہ یہ وہ مسئلہ ہے جسؔ کی شہادت تمام زمین آسمان میں پائی جاتی ہے جس کی تصدیق عالم کا ذرہ ذرہ کرتا ہے جس پر نظام تمام دنیا قائم ہے۔ قرآن شریف میں اس مسئلہ کو ایک عمدہ مثال میں بیان کیا ہے جو ذیل میں معہ ایک لطیف تحقیقات جو اس کی تفسیر سے متعلق اور بحث ہذا کی تکمیل کے لئے ضروری ہے لکھی جاتی ہے اور وہ یہ ہے۔33 33 3333 333الجزو نمبر ۸۱۔۱؂ خدا آسمان و زمین کا نور ہے۔ یعنے ہر ایک نور جو بلندی اور پستی میں نظر آتا ہے۔ خواہ وہ ارواح میں ہے۔ خواہ اجسام میں اور خواہ ذاتی ہے اور خواہ عرضی اور خواہ ظاہری ہے اور خواہ باطنی اور خواہ ذہنی ہے خواہ خارجی۔ اسی کے فیض کا عطیہ ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت رب العالمین کا فیض عام ہر چیز پر محیط ہورہا ہے اور کوئی اس کے فیض سے خالی نہیں۔ وہی تمام فیوض کا مبدء ہے اور تمام انوار کا علت العلل اور تمام رحمتوں کا سرچشمہ ہے۔ اسی کی ہستی حقیقی تمام عالم کی قیوم اور تمام زیر و زبر کی پناہ ہے۔ وہی ہے جس نے ہریک چیز کو ظلمت خانہ عدم سے باہر نکالا اور خلعت وجود بخشا۔ بجز اس کے کوئی ایسا وجود نہیں ہے کہ جو فی حد ذاتہ واجب اور قدیم ہو۔ یا اس سے مستفیض نہ ہو بلکہ