پروں اور پاؤں سے بھی درجہ میں کمتر اور خوبی میں فروتر ہے۔ کیا افسوس کا مقام ہے کہ ایک مچھر کی ترکیب جسمی کی نسبت تمؔ صاف اقرار کرتے ہو کہ ایسی ترکیب انسان سے نہیں بن سکتی اور نہ آئندہ بنے گی لیکن کلام الٰہی کی نسبت کہتے ہو کہ وہ بن سکتی ہے۔
قدوس اعظم کا ہمکلام بننے کے لئے ایک ایسی خاص قابلیت اور نورانیت شرط ہے کہ جو اس مرتبہ عظیم کی قدر اور شان کے لائق ہے۔ یہ بات ہرگز نہیں کہ ہریک شخص جو عین نقصان اور فرومائیگی اور آلودگی کی حالت میں ہے اور صدہا حجب ظلمانیہ میں محجوب ہے وہ باوصف اپنی پست فطرتی اور دون ہمتی کے اس مرتبہ کو پاسکتا ہے۔ اس بات سے کوئی دھوکا نہ کھاوے کہ منجملہ اہل کتاب عیسائیوں کا یہ خیال ہے کہ انبیاء کے لئے جو وحی اللہ کے منزل علیہ ہیں تقدس اور تنزہ اور عصمت اور کمال محبت الٰہیہ حاصل نہیں۔ کیونکہ عیسائی لوگ اصول حقہ کو کھو بیٹھے ہیں اور ساری صداقتیں صرف اس خیال پر قربان کردی ہیں کہ کسی طرح حضرت مسیح خدا بن جائیں اور کفارہ کا مسئلہ جم جائے۔ سو چونکہ نبیوں کا معصوم اور مقدس ہونا ان کی اس عمارت کو گراتا ہے جو وہ بنارہے ہیں اس لئے ایک جھوٹ کی خاطر سے دوسرا جھوٹ بھی انہیں گھڑنا پڑا اور ایک آنکھ کے مفقود ہونے سے دوسری بھی پھوڑنی پڑی۔ پس ناچار انہوں نے باطل سے پیار کرکے حق کو چھوڑ دیا۔ نبیوں کی اہانت روا رکھی۔ پاکوں کو ناپاک بنایا۔ اور ان دلوں کو جو مہبط وحی تھے کثیف اور مکدّر قرار دیا تاکہ ان کے مصنوعی خدا کی کچھ عظمت نہ گھٹ جائے یا منصوبہ کفارہ میں کچھ فرق نہ آجائے۔ اسی خود غرضی کے جوش سے انہوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ اس سے فقط نبیوں کی توہین نہیں ہوتی بلکہ خدا کی قدوسی پر بھی حرف آتا ہے۔ کیونکہ جس نے نعوذ باللہ ناپاکوں سے ربط ارتباط اور میل ملاپ رکھا وہ آپ بھی کاہے کا پاک ہوا۔ خلاصہ کلام یہ کہ عیسائیوں کا قول بوجہ شدت باطل پرستی حق سے تجاوز کرگیا ہے اور اب وہ خواہ نخواہ اسی عقیدہ باطلہ کو سرسبز کرنا چاہتے ہیں جس پر ان کے مخلوق پرست بزرگوں نے قدم مارا ہے گو اس سے تمام صداقتیں منقلب ہوجائیں یا کیسا ہی حق اور راستی کے برخلاف چلنا پڑے۔ مگر طالب حق کو سمجھنا چاہیئے