صورت اور باطنی ترکیب میں ایسی بے مثل ہےؔ کہ اس پر نظر کرنے سے اس کا خدا کی طرف سے فرمایا ہے۔ 333۔ الجزو نمبر ۵۔ ۱؂ یعنے جس سے کوئی بدعملی ہوجائے یا اپنے نفس پر کسی نوع کا ظلم کرے اور پھر پشیمان ہوکر خدا سے معافی چاہے تو وہ خدا کو غفور و رحیم پائے گا۔ اس لطیف اور پرحکمت عبارت کا مطلب یہ ہے کہ جیسے لغزش اور گناہ نفوس ناقصہ کا خاصہ ہے جو ان سے سرزد ہوتا ہے اس کے مقابلہ پر خدا کا ازلی اور ابدی خاصہ مغفرت و رحم ہے اور اپنی ذات میں وہ غفور و رحیم ہے یعنے اس کی مغفرت سرسری اور اتفاقی نہیں بلکہ وہ اس کی ذات قدیم کی صفت قدیم ہے جس کو وہ دوست رکھتا ہے اور جوہر قابل پر اس کا فیضان چاہتا ہے۔ یعنے جب کبھی کوئی بشر بروقت صدور لغزش و گناہ بہ ندامت و توبہ خدا کی طرف رجوع کرے تو وہ خدا کے نزدیک اس قابل ہوجاتا ہے کہ رحمت اور مغفرت کے ساتھ خدا اس کی طرف رجوع کرے۔ اور یہ رجوع الٰہی بندۂ نادم اور تائب کی طرف ایک یا دو مرتبہ میں محدود نہیں بلکہ یہ خدائے تعالیٰ کی ذات میں خاصہ دائمی ہے اور جب تک کوئی گنہگار توبہ کی حالت میں اس کی طرف رجوع کرتا ہے وہ خاصہ اس کا ضرور اس پر ظاہرؔ ہوتا رہتا ہے۔ پس خدا کا قانون قدرت یہ نہیں ہے کہ جو ٹھوکر کھانے والی طبیعتیں ہیں وہ ٹھوکر نہ کھاویں یا جو لوگ قویٰ بہیمیہ یا غضبیہ کے مغلوب ہیں ان کی فطرت بدل جاوے بلکہ اُس کا قانون جو قدیم سے بندھا چلا آتا ہے یہی ہے کہ ناقص لوگ جو بمقتضائے اپنے ذاتی نقصان کے گناہ کریں وہ توبہ اور استغفار کرکے بخشے جائیں۔ لیکن جو شخص بعض قوتوں میں فطرتاً ضعیف ہے وہ قوی نہیں ہوسکتا۔ اس میں تبدیل پیدائش لازم آتی ہے اور وہ بداہتاً محال ہے اور خود مشہود و محسوس ہے کہ مثلاً جس کی فطرت میں سریع الغضب ہونے کی خصلت پائی جاتی ہے وہ بطی الغضب ہرگز نہیں بن سکتا بلکہ ہمیشہ دیکھا جاتا ہے کہ ایسا آدمی غضب کے موقعہ پر آثار غضب بلا اختیار ظاہر کرتا ہے اور ضبط سے باہر آجاتا ہے یا کوئی ناگفتنی بات زبان پر لے آتا ہے۔ اور اگر کسی لحاظ سے کچھ صبر بھی کرے تو دل میں ضرور پیچ و تاب کھاتا ہے۔ پس یہ احمقانہ خیال ہے کہ کوئی