تو پھر اگر تم کو ایسی استقراء تام پر بھی اعتبار نہیں کہ جو خدا کے سارے قانون قدرت پر نظر کرکے بنایا گیا ہے تو عقل اور قانون قدرت کا نام نہ لو اور منطق اور فلسفہ کی بیسود کتابوںؔ کو چاک کرکے دریا برد کرو۔ کیا تم کو یہ بات منہ سے نکالتے ہوئے شرم نہیں آتی کہ ایک مکھی جس کے دیکھنے سے بھی طبیعتیں کراہت کرتی ہیں وہ اپنی ظاہری
نہیں ہے خواہ کوئی کیسا ہی ہوا پرست اور نفس امّارہ کا مغلوب ہو پھر بھی کسی نہ کسی قدر نور فطرتی اس میں پایا جاتا ہے۔ مثلاً جو شخص بوجہ غلبہ قوائے شہویہ یا غضبیہ چوری کرتا ہے یا خون کرتا ہے یا حرامکاری میں مبتلا ہوتا ہے تو اگرچہ یہ فعل اس کی فطرت کا مقتضا ہے لیکن بمقابلہ اُس کے نورؔ صلاحیت جو اس کی فطرت میں رکھا گیا ہے وہ اس کو اسی وقت جب اس سے کوئی حرکت بے جا صادر ہوجائے ملزم کرتا ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے۔ 3۔الجزو نمبر ۰۳۔ ۱ یعنے ہر یک انسان کو ایک قسم کا خدا نے الہام عطا کر رکھا ہے جس کو نور قلب کہتے ہیں۔ اور وہ یہ کہ نیک اور بدکام میں فرق کرلینا۔ جیسے کوئی چور یا خونی چوری یا خون کرتا ہے تو خدا اس کے دل میں اسی وقت ڈال دیتا ہے کہ تو نے یہ کام برا کیا اچھا نہیں کیا۔ لیکن وہ ایسے القاء کی کچھ پرواہ نہیں رکھتا کیونکہ اس کا نور قلب نہایت ضعیف ہوتا ہے اور عقل بھی ضعیف اور قوت بہیمیہ غالب اور نفس طالب۔ سو اس طور کی طبیعتیں بھی دنیا میں پائی جاتی ہیں جن کا وجود روزمرہ کے مشاہدات سے ثابت ہوتا ہے۔ ان کے نفس کا شورش اور اشتعال جو فطرتی ہے کم نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ جو خدا نے لگا دیا اس کو کون دور کرے۔ ہاں خدا نے ان کا ایک علاج بھی رکھا ہے۔ وہ کیا ہے؟ توبہ و استغفار اور ندامت یعنے جب کہ برا فعل جو ان کے نفس کا تقاضا ہے ان سے صادر ہو یا حسب خاصہ فطرتی کوئی برا خیال دل میں آوے تو اگر وہ توبہ اور استغفار سے اس کا تدارک چاہیں تو خدا اس گناہ کو معاف کردیتا ہے۔ جب وہ بار بار ٹھوکر کھانے سے بار بار نادم اور تائب ہوں تو وہ ندامت اور توبہ اس آلودگی کو دھو ڈالتی ہے۔ یہی حقیقی کفارہ ہے جو اس فطرتی گناہ کا علاج ہے۔ اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ