ہونا ثابت ہوتا ہے۔ لیکن خدا کے کلام کی فصاحت اور بلاغت ایسی بے نظیر نہیں ہوسکتی جس پر نظر کرنے سے اس کلام کا خدا کی طرف سے ہونا ثابت ہو۔ غافلو! منتر جنتر یا کوئی خاص مذہب اختیار کرنا اس کی طبیعت کو بدلا دے گا۔ اسی جہت سے اُس نبی معصوم نے جس کی لبوں پر حکمت جاری تھی فرمایا خیارھم فی الجاھلیۃ خیارھم فی الاسلام یعنے جو لوگ جاہلیت میں نیک ذات ہیں وہی اسلام میں بھی داخل ہوکر نیک ذات ہوتے ہیں۔ غرض طبائع انسانی جواہر کانی کی طرح مختلف الاقسام ہیں۔ بعض طبیعتیں چاندی کی طرح روشن اور صاف۔ بعض گندھک کی طرح بدبودار اور جلد بھڑکنے والی۔ بعض زیبق کی طرح بے ثبات اور بے قرار۔ بعض لوہے کی طرح سخت اور کثیف۔ اور جیسا یہ اختلاف طبائع بدیہی الثبوت ہے ایسا ہی انتظام ربانی کے بھی موافق ہے۔ کچھ بے قاعدہ بات نہیں۔ کوئی ایسا امر نہیں کہ قانون نظام عالم کے برخلاف ہو بلکہ آسائش و آبادی عالم اسی پر موقوف ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر تمام طبیعتیں ایک ہی مرتبہ استعداد پر ہوتیں تو پھر مختلف طور کے کام (جو مختلف طور کی استعدادوں پر موقوف تھے) جن پر دنیا کی آبادی کا مدار تھا حیز التوا میں رہ جاتے۔ کیونکہ کثیف کاموں کے لئے وہ طبیعتیں مناسب حال ہیں جو کثیف ہیں اور لطیف کاموں کے لئے وہ طبیعتیں مناسبت رکھتی ہیں جو لطیف ہیں۔ یونانی حکیموں نے بھی یہی رائے ظاہر کی ہے کہ جیسے بعض انسان حیوانات کے قریب قریب ہوتے ہیں۔ اسی طرح عقل تقاضا کرتی ہے کہ بعض انسان ایسے بھی ہوں جن کا جوہرِ نفس کمال صفوت اور لطافت پر واقعہ ہو۔ تا جس طرح طبائع انسانی کا سلسلہ نیچے کی طرف اس قدر متنزل نظر آتا ہے کہ حیوانات سے جاؔ کر اتصال پکڑلیا ہے اسی طرح اوپر کی طرف بھی ایسا متصاعد ہوکہ عالم اعلیٰ سے اتصال پکڑلے۔ اب جبکہ ثابت ہوگیا کہ افراد بشریہ عقل میں۔ قویٰ اخلاقیہ میں۔ نور قلب میں متفاوت المراتب ہیں تو اسی سے وحی ربانی کا بعض افراد بشریہ سے خاص ہونا یعنے ان سے جو من کل الوجوہ کامل ہیں بہ پایہ ثبوت پہنچ گیا۔ کیونکہ یہ بات تو خود ہریک عاقل پر روشن ہے کہ ہریک نفس اپنی استعداد و قابلیت کے موافق انوار الٰہیہ کو قبول کرتا ہے۔ اس سے زیادہ