کا کوئی کام بے نظیر نہیں اور خدا کے سارے کام اور جوؔ کچھ اُس سے صادر ہوا بے نظیر ہے
اشارہ ہے اور نیز فرمایا۔ 33الجزو نمبر ۷۲۔ ۱ یعنے میں نے جن و انس کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ میری پرستش کریں۔ یہ بھی اسی کی طرف اشارہ ہے کہ پرستش الٰہی ایک فطرتی امر ہے۔ پس جب توحید الٰہی اور پرستش الٰہی سب بنی آدم کے لئے فطرتی امر ہوا اور کوئی آدمی سرکشی اور بے ایمانی کے لئے پیدا نہ کیا گیا تو پھر جو امور برخلاف خدا دانی و خدا ترسی ہیں کیونکر فطرتی امر ہوسکتے ہیں۔
یہ شبہ صرف ایک صداقت کی غلط فہمی ہے کیونکہ وہ امر جو آیات مندرجۂ بالا سے ثابت ہوتا ہے وہ تو صرف اسی قدر ہے کہ انسان کی فطرت میں رجوع الی اللہ اور اقرار وحدانیت کا تخم بویا گیا۔ یہ کہاں آیات موصوفہ میں لکھا ہے کہ وہ تخم ہریک فطرت میں مساوی ہے بلکہ جابجا قرآن شریف میں اسی بات کی تصریح ہے کہ وہ تخم بنی آدم میں متفاوت المراتب ہے۔ کسی میں نہایت کم۔ کسی میں متوسط۔ کسی میں نہایت زیادہ۔ جیسا ایک جگہ فرمایا ہے۔ 33۔ الجزو نمبر ۲۲۔۲ یعنے بنی آدم کی فطرتیں مختلف ہیں۔ بعض لوگ ظالم ہیں جن کے نور فطرتی کو قویٰ بہیمیہ یا غضبیہ نے دبایا ہوا ہے۔ بعض درمیانی حالت میں ہیں۔ بعض نیکی اور رجوع الی اللہ میں سبقت لے گئے ہیں۔ اسی طرح بعض کی نسبت فرمایا۔ 3۔ الجزونمبر۷۔ ۳ اور ہم نے ان کو چن لیا یعنے وہ باعتبار اپنی فطرتی قوتوں کے دوسروں میں سے چیدہ اور برگزیدہ تھے۔ اس لئے قابل رسالت و نبوت ٹھہرے۔ اور بعض کی نسبت فرمایا۔ 3۔ الجزو نمبر ۹ ۴ یعنے ایسے ہیں جیسے چارپائے اور نور فطرتی ان کا اس قدر کم ہے کہ ان میں اور مویشی میں کچھ تھوڑا ہی فرق ہے۔ پس دیکھنا چاہیئے کہ اگرچہ خدائے تعالیٰ نے یہ بھی فرما دیا ہے کہ تخم توحید ہریک نفس میں موجود ہے۔ لیکن ساتھ ہی اُس کے یہ بھی کئی مقامات میں کھول کر بتلا دیا ہے کہ وہ تخم سب میں مساوی نہیں۔ بلکہ بعض کی فطرتوں پر جذبات نفسانی ان کے ایسے غالب آگئے ہیں کہ وہ نور کالمفقود ہوگیا ہے۔ پس ظاہر ہے کہ قویٰ بہیمیہ یا غضبیہ کا فطرتی ہونا وحدانیت الٰہی کے فطرتی ہونے کو منافی