بیخ کنی ہے۔ جبکہ یہ بات نہایت واضح اور مضبوط دلائل سے ثابت ہوتی ہے کہ بندوں یاد رکھنا چاہیئے کہ ایسے خیالات انہیں لوگوں کے دل میں اٹھتے ہیں جنہوں نے علوم طبعی اور طبابت میں کبھی غور نہیں کی۔ یا جن کی آنکھیں فرط تعصب اور مخلوق پرستی سے اندھی ہوگئی ہیں ورنہ طبائع مختلفہ کا مسئلہ یہاں تک ثابت ہے کہ حکماء نے جب اس بارہ میں تحقیق کی تو متواتر تجربوں سے ان پر یہ امر کھل گیا کہ بزدل یا شجاع ہونا اور طبعاً ممسک ہونا یا سخی ہونا اور ضعیف العقل یا قوی العقل ہونا اور دنی الہمت یا رفیع الہمت ہونا اور بردبار یا مغلوب الغضب ہونا اور فاسد الخیال یا صالح الخیال ہونا یہ اس قسم کے عوارض نہیں ہیں کہ سرسری اور اتفاقی ہوں۔ بلکہ صانع قدیم نے بنی آدم کی کیفیت مواد اور کمیت اخلاط اور سینہ اور دل اور کھوپڑی کی وضع خلقت میں مختلف طور پر طرح طرح کے فرق رکھے ہیں۔ انہیں فرقوں کے باعث سے افراد انسانی کی قویٰ اخلاقیہ اور عقلیہ میں فرق بین نظر آتا ہے۔ اس قدیم رائے کو ڈاکٹروں نے بھی تسلیم کرلیا ہے۔ ان کا بھی یہ قول ہے کہ چوروں اور ڈاکوؤں کی کھوپریوں کو جب غور سے دیکھا گیا تو ان کی وضع ترکیب ایسی پائی گئی جو اسی فرقہ فاسدالخیال سے مخصوص ہے۔ بعض یونانیوں نے اس سے بھی کچھ بڑھ کر لکھا ہے۔ بعض گردن اور آنکھ اور پیشانی اور ناک اور دوسرے کئی اعضاء سے بھی اندرونی حالات کا استنباط کرتے ہیں۔ بہرحال یہ ثابت ہوچکا ہے اور اس کے ماننے سے کچھ چارہ نہیں کہ بنی آدم کا خلقی اور عقلی استعدادوں میں فطرتی تفاوت واقع ہے اور ہریک نفس کسی قدر صلاحیت کی طرف تو قدم رکھتا ہے۔ مگر اپنی قابلیت کے دائرہ سے زیادہ نہیں۔ شاید کسی دل میں یہ شبہ پیدا ہو کہ خدا نے اعتقاد توحید کو سب انسانوں میں فطرتی بیان کیا ہے اور فرمایا ہے۔ 33۔ الجزو نمبر۱۲۔۱ ؂ یعنے توحید پر قائم ہونا انسان کی فطرت میں داخل ہے جس پر انسانی پیدائش کی بنیاد ہے۔ اور نیز فرمایا۔3۔الجزو نمبر۹۲؂ یعنے ہریک روح نے ربوبیتؔ الٰہیہ کا اقرار کیا۔ کسی نے انکار نہ کیا۔ یہ بھی فطرتی اقرار کی طرف