اور پھر آپ ہی بڑبڑائیں کہ اب قویٰ بشریہ اس چیز کی مثل بنانے سے قاصر اور عاجز ہیں اور اس مجنونانہ قول کا خلاصہ یہ ہوگا کہ قویٰ بشریہ ایک چیز کے بنانے پر قادر ہیں
اسی کتاب میں بخوبی کھول کر لکھی جاوے گی۔ پھر اس منہ اور اس لیاقت کے ساتھ ربانی الہام سے انکار کرنا اور آپ ہی خدا کا قائم مقام بن بیٹھنا اور حضرات مقدسین انبیاء کو اہل غرض سمجھنا یہ آپ لوگوں کی نیک طینتی ہے۔ اور اس سے دھوکا مت کھانا کہ عقل ایک عمدہ چیز ہے۔ ہم ہریک تحقیق عقل ہی کے ذریعے سے کرتے ہیں۔ بلاشبہ عمدہ چیز ہے۔ لیکن اس کا جوہر تب ہی ظاہر ہوتا ہے جب وہ اپنے جوڑ کے ساتھ شامل ہو۔ ورنہ وہ دھوکا دینے میں دشمنوں سے بدتر ہے۔ دو رنگی دکھلانے میں منافقوں سے بڑھ کر ہے۔ سو تمہاری بدنصیبی تم اس کے جوڑ کے نام سے بھی چڑتے ہو۔ دوستو! خوب سوچو بن جوڑ کسی بات کی بھی گت نہیں۔ خدا نے جوڑ بھی ایک عجب چیز بنادی ہے۔ جہاں دیکھو جوڑ ہی سے کام نکلتا ہے۔ ہم تم سب آنکھوں ہی سے دیکھتے ہیں۔ پر آفتاب کی بھی ضرورت ہے۔ کانوں ہی سے سنتے ہیں پر ہوا کی بھی حاجت ہے۔ آفتاب چھپا تو بس اندھے بیٹھے رہو۔ کانوں کو ہوا سے ڈھانک لو تو بس سننے سے چھٹی ہوئی۔ جس عورت کے خاوندؔ سے کوئی بات ہونے نہ پائے بھلا اُس کا کس بدھ حمل ٹھہرے۔ جس زراعت کو پانی چھو بھی نہیں گیا اس کو کیونکر پھل لگے۔ یہ باتیں ایسی نہیں ہیں کہ تمہاری سمجھ سے دور ہوں۔ یہ وہی قانون قدرت ہے جس پر عمل کرنے کا تم کو دعویٰ ہے۔ سو اب اس دعویٰ پر عمل بھی کرو۔ تانرے دکھانے کے ہی دانت نہ رہیں۔
حاجت نورے بود ہر چشم را
ایں چنیں افتاد قانون خدا
چشم بینا بے خور تاباں کہ دید
کے چنیں چشمے خداوند آفرید
چوں تو خود قانونِ قدرت بشکنی
پس چرا بر دیگراں سر میزنی
آنکہ در ہر کار شد حاجت روا
چوں رواداری کہ نبود رہنما
آنکہ اسپ و گاؤ خر را آفرید
تا رہد پشت تو از بارِ شدید