مخبط الحواسوں کا سا ہے کہ پہلے ایک چیز کو اپنے منہ سے قویٰ بشریہ کی بنائی ہوئی مان لیںؔ بلکہ یہ وہ آفت ہے کہ کئی آفات اُس سے پیدا ہوتی ہیں جن کی تفصیل (انشاء اللہ)اپنے موقعہ پر درج ہوگی۔ خداوند کریم نے جیسا ہریک چیز کا باہم جوڑ باندھ دیا ہے۔ ایسا ہی الہام اور عقل کا باہم جوڑ مقرر کیا ہے۔ اس حکیم مطلق کا عام طور پر بھی قانون قدرت پایا جاتا ہے۔ کہ جب تک ایک چیز اپنے جوڑ سے الگ ہے تب تک اس کے جوہر چھپے رہتے ہیں۔ بلکہ اکثر اوقات نفع کی جگہ ضرر ہوتا ہے۔ ایسا ہی عقل کا حال ہے کہ علم دین میں اس کے نیک آثار تب مترتب ہوتے ہیں جب وہ جوڑ یعنے الہام اس کے ساتھ شامل ہوجائے۔ ورنہ اپنےؔ جوڑ کے بغیر ڈاین ہوکر ملتی ہے۔ سارا گھر نگلنے کو طیار ہوجاتی ہے۔ سارا شہر سنسان ویران کرنا چاہتی ہے۔ پر جب جوڑ میسر آگیا تب تو چشم بددور کیا ہی پاک صورت اور پاک سیرت ہے۔ جس گھر میں رہے مالا مال کردے۔ جس کے پاس جائے اس کی سب نحوستیں اتار دے۔ تم آپ ہی سوچو کہ جوڑ کے بغیر کوئی چیز اکیلی کس کام کی؟ پھر تم کیوں یہ ادھوری عقل اس قدر ناز سے لئے پھرتے ہو۔ کیا یہ وہی نہیں جو کئی بار دروغگوئی میں رسوائیاں اٹھا چکی؟ کیا یہ وہی نہیں جس کے سر پر بار بار گرنے سے بڑے بڑے داغ موجود ہیں؟ مجھے بتائیے تو سہی کہ آپ کا جی کس پر بھرما گیا۔ یہ کہاں کی پری آگئی جس کو دل دے بیٹھے؟ کیا تمہیں خبر نہیں کہ اس نے تم سے پہلے کتنوں کا لہو پیا۔ کتنوں کو گمراہی کے کنوئیں میں دھکیل کر مارا۔ تم جیسے کئی یاروں کو کھا چکی۔ صدہا لاشیں ٹھکانے لگا چکی۔ بھلا تم نے اس اکیلی عقل کے ذریعے سے کون سی ایسی دینی صداقتیں پیدا کی ہیں جو قرآن شریف میں پہلے سے موجود نہیں۔ زیادہ نہیں دوچار ہی دکھاؤ۔ اگر تم مجرد عقل سے ایسے حقائق عالیہ نکالتے جن کا قرآن شریف میں کچھ ذکر نہ ہوتا تب بھی ایک بات تھی۔ اور اس صورت میں تم بڑے ناز سے اپنی سماج میں بیٹھ کر کہہ سکتے تھے کہ ہاں ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے وہ صداقتیں نکالیں جو الہامیؔ کتابوں میں موجود نہیں۔ لیکن افسوس کہ تمہارے رسائل میں بجز ان چند امور کے جو بطور سرقہ قرآن شریف سے لئے گئے ہیں اور جو کچھ نظر آتا ہے سراسر متاعِ ردّی ہے جس سے برخلاف عقلمندی کے آپ لوگوں کی بے علمی اور بے سمجھی اور غلطی ثابت ہوتی ہے جس کی حقیقت انشاء اللہ