ذرا بھی عقل ہے وہ خوب جانتا ہے کہ جس چیز کو قوائے بشریہ نے بنایا ہے اُسؔ کا بنانا بشری طاقت سے باہر نہیں ورنہ کوئی بشر اس کے بنانے پر قادر نہ ہوسکتا۔ جب تم نے ایک کلام کو بشر کی کلام کہا تو اس ضمن میں تم نے آپ ہی قبول کرلیا کہ بشری طاقتیں اس کلام کو بناسکتی ہیں۔ اور جس صورتؔ میں بشری طاقتیں اس کو بناسکتی ہیں تو پھر وہ بے نظیر کاہے کی ہوئی۔ پس یہ خیال تو سراسر سودائیوں اوراس تمام تقریر سے ثابت ہے کہ منکرین الہام کامل توحید سے بے نصیب ہیں اور ہرگز ممکن نہیں کہ ان کی روح میں سے سچے ایمانداروں کی طرح یہ آواز نکل سکے کہ 3333۔ الجزو نمبر ۸۱ سب تعریفیں خدا کو ہیں۔ جس نے جنت کی طرف ہم کو آپ رہبری کی اور ہم کیا چیز تھے کہ خودبخود منزل مقصود تک پہنچ جاتے اگر خدا رہبری نہ کرتا۔ اِن لوگوں نے خدا تعالیٰ کی قدر شناسی خوب کی کہ جو صفتیں اس کی طرف منسوب کرنی واجب تھیں وہ اپنی عقل کی طرف منسوب کردیں اور جو جلال اس کا ظاہر کرنا چاہیئے تھا وہ اپنے نفس کا ظاہر کیا۔ اور جو جو طاقتیں اس کے لئے خاص تھیں اُن سب کے مالک آپ بن گئے۔ ان کے حق میں خداوند کریم نے سچ فرمایا ہے۔33الجزو نمبر ۷۲ یعنے الہام کے منکروں نے اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات کا کچھ قدر شناخت نہیں کیا۔ اور اس کی رحمت کو جو بندوں کی ہریک حاجت کے وقت جوش مارتی ہے نہیں پہچانا۔ تب ہی انہوں نے کہا کہ خدا نے کوئی کتاب کسی بشر پر نازل نہیں کی۔
ترا عقل تو ہر دم پائے بند کبر میدارد
برو عقلے طلب کن کت زخود بینی بروں آرد
ہماں بہتر کہ ماآنِ علم حق از حق بیا موزیم
کہ ایں علمے کہ ماداریم صد سہو و خطا وارد
کہ گوید بہتر از قولش گراو خاموش بنشیند
کہ گیرددَستت اے ناداں گراو دست توبگذارد
برو قدرش بہ بیں و از حجت بے اصل دم درکش
کہ ایں حجت کہ می آری بلاہا برسرت آرد
میں جداً و قطعاً کہتا ہوں کہ الہامؔ کے بغیر مجرد عقل کی پیروی میں صرف ایک نقصان نہیں