بہت سی کلام انسان کی دنیا میںؔ ایسی موجود ہیں جن کی مثل آج تک دوسرا
کہ خدا موجود ہے۔ وہی ہے جس سے پرستاروں کو پرستش کی لذت آتی ہے۔ ایمانداروں کو خدا کے وجود اور عالم آخرت پر تسلی ملتی ہے۔ وہی ہے جس سے کروڑہا عارفوں نے بڑی استقامت اور جوش محبت الٰہیہ سے اس مسافر خانے کو چھوڑا۔ وہی ہے جس کی صداقت پر ہزارہا شہیدوں نے اپنے خون سے مہریں کردیں۔ ہاں وہی ہے جس کی قوت جاذبہ سے بادشاہوں نے فقر کا جامہ پہن لیا۔ بڑے بڑے مالداروں نے دولتمندی پر درویشی اختیار کرلی۔ اسی کی برکت سے لاکھوں اُمّی اور ناخواندہ اور بوڑھی عورتوں نے بڑے پرجوش ایمان سے کوچ کیا۔ وہی ایک کشتی ہے جس نے بارہا یہ کام کر دکھایا کہ بے شمار لوگوں کو ورطۂ مخلوق پرستی اور بدگمانی سے نکال کر ساحل توحید اور یقین کامل تک پہنچا دیا۔ وہی آخری دم کا یار اور نازک وقت کا مددگار ہے۔ لیکن فقط عقل کے پردے سے جس قدر دنیا کو ضرر پہنچا ہے۔ وہ کچھ پوشیدہ نہیں۔ بھلا تم آپ ہی بتلاؤ۔ کس نے افلاطون اور اس کے توابع کو خدا کی خالقیت سے منکر بنایا؟ کس نے جالینوس کو روحوں کے باقی رہنے اور جزا سزا کے بارے میں شک میں ڈال دیا؟ کس نے تمام حکیموں کو خدا کے عالم بالجزئیات ہونے سے انکاری رکھا؟ کس نے بڑے بڑے فلاسفروں سے بت پرستی کرائی؟ کس نے مورتوں کے آگے مرغوں اور دوسرے حیوانات کو ذبح کرایا۔ کیا یہی عقل نہیں تھی جس کے ساتھ الہام نہ تھا۔ اور یہ شبہ پیش کرنا کہ بہت سے لوگ الہام کے تابع ہوکر بھی مشرک بن گئے۔ نئے نئے خدا بنالئے۔ درست نہیں۔ کیونکہ یہ خدا کے سچے الہام کا قصور نہیں بلکہ ان لوگوں کا قصور ہے جنہوں نے سچ کے ساتھ جھوٹ ملا دیا اور خدا پرستی پر ہوا پرستی کو اختیار کرلیا۔ پھر بھی الہام الٰہی ان کے تدارک سے غافل نہیں رہا۔ ان کو فراموش نہیں کیا بلکہ جن جن باتوں میں وہ حق سے دور پڑ گئے۔ دوسرے الہام نے ان باتوں کی اصلاح کی اور اگر یہ کہو کہ عقل کا بگاڑ بھی نیم عاقلوں کا قصور ہے نہ عقل کامل کا قصور تو یہ قول