کلام نہیں ہوا مگر وہ خدا کی کلام تسلیم نہیں ہوسکتی۔ سو واضح ہو کہ یہ وہم قلت تفکر اور صحیح نہیں۔ ظاہر ہے کہ عقل اپنے اطلاق اور کلیت کے مرتبہ میں تو کوئی کارروائی نہیں کرسکتی۔ کیونکہ اس مرتبہ میں وہ ایکؔ کلی ہے اور کلی کا وجود بجز وجود افراد متحقق نہیں ہوسکتا بلکہ کیفیت اس کی بذریعہ اس کے افراد کے معلوم ہوتی ہے۔ لیکن ایسے فرد کامل کو کون دکھا سکتا ہے جس نے فقط عقل کا تابعدار ہوکر اپنے خود تراشیدہ عقائد میں کبھی غلطی نہیں کی۔ الٰہیات کے بیان میں کبھی ٹھوکر نہیں کھائی۔ ایسا عاقل کہاں ہے جس کا یقین وجود صانع عالم اور جزا سزا وغیرہ امور معاد پر ہے کے مرتبہ تک پہنچ گیا ہو۔ جس کی توحید میں شرک کی کوئی رگ باقی نہ رہی ہو۔ جس کے جذباتِ نفسانیہ پر رجوع الی اللہ غالب آگیا ہو۔ اور ہم ابھی اس سے پہلے لکھ چکے ہیں کہ خود حکماء کا اقرار ہے کہ انسان مجرد عقل کے ذریعہ سے الٰہیات کے مسائل میں مرتبہ یقین کامل تک نہیں پہنچ سکتا۔ بلکہ صرف ایک مشتبہ اور مظنون رائے کا مالک ہوتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ جب تک کسی کا علم مشتبہ اور مظنون ہے اور مرتبہ یقین سے متنزل اور فروتر۔ تب تک غلطی کرنے سے اس کو امن حاصل نہیں جیسے اندھے کو راستہ بھولنے سے۔ اور یہ خیال کرنا کہ مجرد عقل سے غلطیاں تو ہوجاتی ہیں پر وہ مکر رسہ کرر نظر سے رفع بھی ہوجاتی ہیں۔ یہ بھی تمہاری عجیب عقل کی ایک غلطی ہی ہے جو اب تک رفع نہیں ہوئی۔ کیونکہ ہم اس سے پہلے بھی بیان کرچکے ہیں کہ عقل انسانی سے امور ماوراء المحسوسات میں بوجۂ نقصان مرتبۂ بصیرت کامل کبھی نہ کبھی اور کہیں نہ کہیں غلطی ہوجانا ایک امر لازمی ہے جس سے کسی عاقل کو انکار نہیں۔ لیکن (تم خوب سوچ کر دیکھ لو) کہ ہر ایک غلطی پر متنبہ ہوجانا اور اس کی اصلاح کرلینا امر لازمی نہیں ہے۔ پس اس صورت میں ظاہر ہے کہ لازمی کا تدارک غیر لازمی سے ہمیشہ اور ہرحال میں ممکن نہیں۔ بلکہ غلطی لازمی کی اصلاح وہی شے کرسکتی ہے جس کو بمقابلہ اس کے صحت و راستی لازم ہو۔ جس میں3۔ ۱ کی صفت پائی جائے۔ اور یہ بات کہ کیوں توحید خالص الہام الٰہی کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی۔