حجت ان کا ایک وہم جو ان کے دلوں کو پکڑتا ہے دور کرنا قرین مصلحت ہے اور وہ یہ ہے کہ ان کو بباعث کوتہ اندیشی یہ خیال فاسد دل میں متمکن ہے کہ
آں یکے کام یافتہ بہ تمام
دیگرے سوختہ بفکرت کام
عارت آیدز عالم اسرار
خود ز خود دم زنی زہے پندار
ہمہ کار تو ناتمام افتاد
وہ چہ کارت بعقل خام افتاد
سو اے بھائیو برہمو سماج والو!!جب کہ آپ لوگوں کو خداوند کریم نے دیکھنے بھالنے کے لئے آنکھیں دی ہیں تو پھر تم آپ ہی ذرہ آنکھ کھول کر دیکھ لو کہ ضرورت الہام کی ثابت ہے یا نہیں اور زیادہ تر تفصیل اس کی بحوالہ دلائل عقلیہ قرآن شریف کے اپنے موقعہ پر مندرج ہے۔ وہاں پڑھ لو۔ پھر اگر خدا سے خوف کرکے سچا راستہ قبول کرلو اور منصب رہنمائی کا خدا ہی کے لئے رہنے دو تو یہ بڑی خوش قسمتی کی نشانی ہے۔ ورنہ اگر کچھ بس چل سکتا ہے تو ان دلائل کو مدلل بیان سے توڑ کر دکھلاؤ۔ لیکن سودائیوں کی چال تو مت چلو کہ جو کسی کی سنتے نہیں اور اپنی ہی بکی جاتے ہیں۔ کیا تعجب کریں یا نہ کریں کہ تم لوگ بات بات میں کٹتے جاتے ہو اور قدم قدم میں رکے جاتے ہو۔ پھر نہ جانے کہ کس بلا کے پردے ہیں کہ وہ اٹھتے ہی نہیں۔ کیسے دل ہیں کہ سمجھتے ہی نہیں۔ عقل کی کسوٹی کس طاق میں رکھ کر بھول گئے کہ کھرے کو کھوٹا اور کھوٹے کو کھرا خیال کرنے لگے۔ خیال پرستی کرنا کس کو نہیں آتا۔ یہ تم کونسا نیا تحفہ لائے کہ جس پر بغلیں بجاتے ہو۔ کوئی باعث نہیں کھلتا کہ کیوں تمہارے دل کے کواڑ نہیں کھلتے۔ کیوں تمہاری آنکھیں دیکھنے سے عاجز ہوؔ رہی ہیں۔ عقل نے تم سے کیسی بے وفائی کی کہ تم جیسے پوجاریوں سے دور بھاگ گئی۔ حضرات!!تم خوب سوچ کر دیکھ لو کہ الہام کے بغیر نہ یقین کامل ممکن ہے نہ غلطی سے بچنا ممکن نہ توحید خالص پر قائم ہونا ممکن۔ نہ جذبات نفسانیہ پر غالب آنا حیّز امکان میں داخل ہے۔ وہ الہام ہی ہے جس کے ذریعہ سے خدا کی نسبت ہے کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ اور تمام دنیا ہست ہست کرکے اس کو پکار رہی ہے۔ وہ الہام ہی ہے جو ابتدا سے دلوں میں جوش ڈالتا آیا