یہ رائے ہے کہ کلام الٰہی کا بے نظیر ہونا ضروری نہیں یا اس کے بے نظیر ہونے سے اس کا خدا کی طرف سے ہونا ثابت نہیں ہوسکتا۔ لیکنؔ اس جگہ بغرض اتمامِ
ہمیں راستہ میں چھوڑ کر آگے چلنے سے انکار کرتی ہے۔ کیا مرتبۂ اعلیٰ ہماری معرفت اور خدا شناسی کا یہی ہے کہ ہم صرف اتنے پر ہی کفایت کریں کہ کوئی بنانے والا چاہیئے۔ کیا ایسے اٹکل پچو خیال سے ہم اس خوشحالی دائمی کے وارث ہوسکتے ہیں کہ جو کامل الیقین اور کامل المعرفت لوگوں کے لئے طیارؔ کی گئی ہے جس یقین کامل کے لئے ہماری رُوح تڑپتی ہے۔ اگر وہ صرف عقل سے ہم کو مل جاتا تو پھر یہ قول بھی ہمارا بجا ہوتا کہ اب ہمیں الہام کی کچھ حاجت نہیں، اپنے مطلب کو پہنچ جو گئے۔ لیکن جب ہم بیمار ہوکر پھر بھی علاج کے متلاشی نہ ہوں اور صحت کامل کے وسائل طلب نہ کریں تو یہ ہماری بدبختی کی نشانی ہے۔
اے در انکار ماندہ از الہام
کرد عقل تو عقل را بدنام
از خدا رو بخویش آوردی
ایں چہ آئین و کیش آوردی
تانہ کس سرزخویشتن تابد
راز توحید راچہ ساں یابد
تانہ برفرق نفس پا بزنی
کے بہ پاک و پلید فرق کنی
ہر کہ شد تابع کلام خدا
رست از اتباع حرص و ہوا
ازخود و نفس خود خلاص شدہ
مہبط فیض نور خاص شدہ
برتر از رنگ ایں جہاں گشتہ
آنچہ ناید بوہم آں گشتہ
ما اسیران نفس امارہ
بے خدائیم سخت ناکارہ
تا میاں بست وحی حق برشاد
اے بسا عقد ہائے ماکہ کشاد
نہ شود از تو کارِ ربانی
آسیائے تہی چہ گردانی
تو و علم تو ما و علم خدا
فرق بیّن از کجاست تا بکجا
آں یکے را نگار خویش بہ بر
دیگرے چشم انتظار بہ در
آں یکے ہمنشیں بہ مہ روئے
دیگرے ہرزہ گرد در کوئے