کامل نہ رہتی اورؔ امر معرفت صانع عالم کا بالکل مشتبہ ہوجاتا۔ کیونکہ جب بعض ان اشیاء کو جو خدا تعالیٰ کی طرف سے صادر ہوئی ہیں بجز خدا کے کوئی اور بھی بنا سکتا ہے تو پھر ہے۔ اسی وقت سے خدا کے ماننے کے لئے اس کے دل میں ایک تخم بویا جاوے گا۔ کیونکہ اس وہم کے کرنے کی اس کو گنجائش ہی نہیں کہ اس کلام کے متکلم کا وجود قیاسی ہے نہ واقعی۔ اس جہت سے کہ کلام کا وجود بغیر وجود متکلم کے ہوہی نہیں سکتا۔ ماسوا اس کے کلام بے مثل میں یہ بھی خوبی ہے کہ جو کچھ علم مبدء اور معاد کا تکمیل نفس کے لئے ضروری ہے۔ وہ سب بطور امر واقعہ کے اس میں لکھا ہوا موجود ہے۔ اور یہ خوبی بھی زمین آسمان میں موجود نہیں۔ کیونکہ اول تو ان کے ملاحظہ سے اسرار دینیہ کچھ معلوم ہی نہیں ہوتے۔ اور اگر کچھ ہوں بھی تو اکثر اوقات وہی مثل مشہور ہے کہ گونگے کے اشارے اس کی ماں ہی سمجھے۔ اب اس تمام تقریر سے ظاہر ہوگیا کہ بے مثل ہونا کلام الٰہی کا صرف اسی جہت سے واجب نہیں کہ استحفاظ سلسلۂ قانون قدرت کا اس پر موقوف ہے۔ بلکہ اس جہت سے بھی واجب ہے کہ بغیر بے مثل کلام کے نجات کا امر ہی ادھورا رہتا ہے۔ کیونکہ جب خدا پر ہی یقین کامل نہ ہوا تو پھر نجات کیسی اور کہاں سے۔ جو لوگ خدا کی کلام کا بے مثل و مانند ہونا ضروری نہیں سمجھتے۔ ان کی کیسی نادانی ہے کہ حکیم مطلق پر بدگمانی کرتے ہیں کہ ہر چند اس نے کتابیں بھیجیں َ پربات وہی بنی بنائی رہی جو پہلے تھی۔ اور وہ کام نہ کیا جس سے لوگوں کا ایمان اپنے کمال کو پہنچتا۔ افسوس ہے کہ یہ لوگ سوچتے نہیں کہ خدا کا قانون قدرت ایسا محیط ہے کہ اس نے کیڑوں مکوڑوں کو بھی کہ جن سے کچھ ایسا بڑا فائدہ متصور نہیں بے نظیر بنانے سے دریغ نہیں کیا تو کیا اس کی حکمت پر یہ اعتراض نہ ہوگا کہ اس کو دریغ کرنے کا مقام کہاں آکر سوجھا جس سے تمام انسانوں کی کشتی ہی غرق ہوتی ہے اور جس سے یہ خیال کرنا پڑتا ہے کہ گویا خداؔ کو ہرگز منظور ہی نہیں کہ کوئی انسان نجات کا مرتبہ حاصل کرے۔ مگر جس حالت میں خدائے تعالیٰ کی نسبت ایسا گمان کرنا کفر عظیم ہے۔ تو بالآخر یہ دوسری بات جو خدا کی شان کے لائق اور بندوں کی حاجت کے موافق ہے ماننی پڑی۔ یعنے یہ کہ خدا نے بندوں کی نجات اور تکمیل معرفت کے لئے ضرور ایسی کتاب بھیجی ہے جو عدیم النظیر ہونے کی وجہ سے معرفت کامل تک پہنچاتی ہے اور جو کام مجرد عقل سے نہیں ہوسکتا۔ اس کو پورا کرکے دکھاتی ہے۔ سو وہ کتاب قرآن شریف