​ کہ اگر یہ جائز ہوتا کہ جو چیزیں خدا کے دست قدرت سے ظہور پذیر ہیں اُن کے بنانے پر کوئی دوسرا شخص بھی قادر ہوسکتا تو کسی مصنوع کو اس خالق حقیقی کے وجود پر دلالت بے مثل و مانند ہو اور نیز اُس میں منجانب اللہ ہونے کے بارے میں اور ہریک امر دینی کے لئے تحریری شہادت بھی موجود ہو۔ تو یہ تمام صفات صرف کتاب الہامی میں جو بے مثل و مانند ہو جمع ہوں گی اور کسی چیز میں جمع نہیں ہوسکتیں۔ کیونکہ یہ خوبی صرف کتاب الہامی میں متحقق ہوسکتی ہے کہ اپنے بیان اور اپنی بے نظیری کی حالت کے ذریعہ سے یقین کامل اور معرفت کامل کے مرتبہ تک پہنچاوے۔ وجہ یہ کہ آسمان و زمین کے وجود پر اگر کوئی کم بخت دہریہ ؔ شک کرے تو کرے کہ یہ قدیم سے چلے آتے ہیں۔ َ پر ایک کلام کو انسانی طاقتوں سے بالاتر تسلیم کرکے پھر انسان اِس اقرار کرنے سے کہاں بھاگ سکتا ہے کہ خدا فی الواقع موجود ہے جس نے اس کتاب کو نازل کیا۔ علاوہ اس کے اس جگہ خدا کا وجود ماننا صرف اپنا ہی قیاس نہیں بلکہ وہی کتاب بطور خبر واقعہ کے یہ بھی بتلاتی ہے کہ خدا موجود ہے اور جزا سزا برحق ہے۔ پس جس یقین کامل کو طالب حق زمین و آسمان میں تلاش کرتا ہے اور نہیں پاتا وہ مراد اس کو اس جگہ مل جاتی ہے۔ لہٰذا دہریہ کو خدا کے قائل کرنے کے لئے جیسا کلام بے مثل سے علاج متصور ہے ویسا زمین وآسمان کے ملاحظہ سےؔ ہرگز ممکن نہیں۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ ہریک انسان میں کہ جو مجرد قیاس پرست ہے دہریہ پن کی ایک رگ ہے۔ وہی رگ دہریہ میں کچھ زیادہ پھول کر ظاہر ہوجاتی ہے اور اوروں میں مخفی رہتی ہے۔ اس رگ کو وہی الہامی کتاب کاٹتی ہے جو فی الواقع انسانی طاقتوں سے باہر ہو۔ کیونکہ جیسا ہم نے اوپر بیان کیا ہے۔ آسمان زمین سے نتیجہ نکالنے میں ہمیشہ لوگوں کی سمجھ مختلف رہی ہے۔ کسی نے یوں سمجھا اور کسی نے ووں سمجھا۔ لیکن یہ اختلاف کلام بے مثل میں نہیں ہوسکتا۔ اور گو کوئی دہریہ ہی ہو۔ َ پر کلام بے مثل کی نسبت یہ رائے ظاہر نہیں کرسکتا کہ وہ بغیر تکلم کسی متکلم کے زمین آسمان کی طرح خودبخود قدیم سے وجود رکھتی ہے۔ بلکہ کلام بے مثل میں اسی وقت تک دہریہؔ بحث و تکرار کرے گا جب تک اس کے بے مثل ہونے میں اس کو کلام ہے اور جب ہی اس نے اس بات کو قبول کرلیا کہ فی الواقعہ بنانا اس کا انسانی طاقتوں سے باہر