اس بات پر کیا دلیل ہے جو کل اشیاء کو کوؔ ئی اور نہیں بناسکتا۔ اب جبکہ دلائل مستحکمہ سے ثابت ہوگیا کہ جو چیزیں خدا کی طرف سے ہیں اُن کا بے نظیر ہونا اور پھر ان کی
ہے جس نے اس کمال تام کا دعویٰ کیا ہے اور اس کو بپایۂ صداقت پہنچایا ہے۔
ہست فرقانؔ آفتاب علم و دین
تابر ندت از گمان سوئے یقین
ہست فرقانؔ از خدا حبل المتین
تا کشندت سوئے رب العالمین
ہست فرقانؔ روز روشن از خدا
تا دہندت روشنئے دیدہ ہا
حق فرستاد این کلام بے مثال
تا رسی در حضرت قدس و جلال
داروئے شک است الہام خدائے
کاں نماید قدرت تام خدائے
ہر کہ روئے خود زِ فرقاںؔ در کشید
جان او روئے یقین ہرگز نہ دید
جان خود را مے کنی در خودروی
بازمے مانی ہماں گول و غوی
کاش جانت میل عرفان داشتے
کاش سعیت تخم حق را کاشتے
خود نگہ کن از سر انصاف و دین
از گمان ہا کے شود کار یقین
ہر کہ را سویش درے بکشودہ است
از یقیں نے از گماں ہا بودہ است
قدر فرقاںؔ نزدت اے غدار نیست
ایں ندانی کت جز ا زوے یار نیست
وحی فرقاںؔ مردگاں را جاں دہد
صد خبر از کوچۂ عرفاں دہد
از یقیں ہامے نماید عالمے
کاں نہ بیند کس بصد عالم ہمے
اس جگہ برہمو سماج والوں نے بڑی جان کنی سے چند وساوس بنا رکھے ہیں تاکہ خدا کی کتاب کے قبول کرنے سے عذر کرنے کی کوئی وجہ پیدا ہوجائے اور کسی طرح انتظام امر دین ادھورا ہی رہے اپنے کمال کو نہ پہنچے۔ اور کہیں یہ نہ کہنا پڑے کہ خدا وہ رحیم کریم ہے کہ جس نے انسان کی جسمانی تربیت کیلئے سورجؔ اور چاندؔ وغیرہ چیزیں بنائیں تاکہ انسان کی خوراک کا بندوبست کرے اور روحانی تربیت کیلئے اپنی کتابیں بھیجیں تا انتظام ہدایت فرماوے۔ سو چونکہ یہ لوگ خداوند کریم و رحیم پر بخل اور بے مروتی اور بد انتظامی کی تہمت لگانا چاہتے ہیں اور ان کے عقائد فاسدہ میں حضرت باری تعالیٰ کی نسبت طرح طرح کی بدگمانیاں اور تحقیر اور توہین پائی جاتی ہے اسلئے مناسب ہے کہ جہاںؔ تک وساوس اُن کے اس بحث سے متعلق