پھر سب صفات اور افعال میںؔ جائز ہو۔ اور اگر سب صفات اور افعال میں جائز ہو تو پھر کوئی دوسرا خدا بھی پیدا ہونا جائز ہو۔ کیونکہ جس چیز میں تمام صفات خدا کی پائی جائیں۔ اسی کا نام خدا ہے اور اگر کسی چیز میں بعض صفات باری ؔ تعالیٰ کی پائی جائیں تب بھی
کیا ہے وہ بھی اسی خاک سے پورا کرسکے۔ یہ تو سچؔ بات ہے کہ مادہ ایجاد اور انشاء کا انسان کے ہاتھ میں بھی وہی ہے جس کو خدا اپنے قوانین قدرتیہ کی پابندی سے استعمال میں لاتا ہے۔ پر نعوذباللہ یہ کب سچ ہوسکتا ہے کہ ایجاد اور انشاء انسان کا خدا کی ایجاد اور انشاء سے برابر ہے۔ اگر انسان خدا کا مقابلہ کرنے میں آسانی کی چال بھی چلے یعنے یہ کرے کہ جس مخلوق کے اعضاء متفرق ہوچکے ہوں۔ اسی کی ہڈیاں اور گوشت اور پوست جمع کرکے پھر وہی جاندار بنانا چاہے یا جان نہیں سہی ویسا ہی قالب طیار کرنا چاہے تو یہ بھی اس کے لئے ممکن نہیں۔ پس انسان ضعیف البنیان خدا کا مقابلہ کیونکر کرسکے۔ اس سے تو حیوانات کا مقابلہ بھی نہیں ہوسکتا۔ بلکہ چھوٹے چھوٹے کیڑوں مکوڑوں کے مقابلہ کرنے سے بھی عاجز ہے اور بعض کیڑے اپنی صنائع میں اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ کوئی اس کے لئے ریشم بناتا ہے اور کوئی اس کو شہد کا شربت پلاتا ہے۔ ایسا ہی کوئی کچھ اور کوئی کچھ طیار کرتا ہے اور انسان کو ان میں سے ایک بھی ہنر یاد نہیں۔ تو پھر دیکھئے نادانی ہے یا نہیں کہ اس منہ اور اس لیاقت سے خدا کے ساتھ مقابلہ۔
چوں نیست بیک مگسے تاب ہمسری
پس چوں کنی بقادرِ مطلق برابری
شرم آیدت زدم زنی خود بہ کردگار
رو قدرِ خود بہ بیں کہ زیک کرم کمتری
اس جگہ یہ بات بھی بخوبی یاد رکھنی چاہئے کہ جیسے عناصر جسم انسان کے خدا کی طرف سے ہیں۔ ایسا ہی عناصر کلام کے بھی خدا کی طرف سے ہیں۔ اور عناصر کلام سے مراد ہماری حروف اور الفاظ اور چھوٹے چھوٹے فقرے ہیں جن پر تعلیم زبان کی موقوف ہے۔ جیسے خدا ہے۔ بندہ فانی ہے۔ الحمدللہ۔ رب العالمین وغیرہ وغیرہ یہ سب عناصر کلام ہی ہیں جو خدا نے اپنی طرف سے انسان پر ظاہر کئے ہیں۔ کیونکہ خدا کا صرف اتنا کام نہیں تھا کہ وہ صرف ایک پتلا خاک کا بناکر پھر الگ ہوجاتا۔ بلکہ ظاہر ہے کہ انسان نے جو کچھ اپنی تکمیل فطرت کے لئے پایا وہ سب خدا ہی سے