ہر یک صادر من اللہ سے متعلق ہے۔ دو طور سے ثابت ہوتاہے۔ اول قیاس سے۔ کیونکہ ازروئے قیاس صحیح و مستحکم کے خدا کا اپنی ذات اور صفات اور افعال میں واحد لاشریک ہونا ضروری ہے اور اس کی کسی صنعت یا قول یا فعل میں شراکت مخلوق کی جائز نہیں۔ دلیل اس پر یہ ہے کہ اگر اس کی کسی صنعت یا قول* یا فعل میں شراکت مخلوق کی جائز ہو تو البتہ اس جگہ پر بعض نادان (جن کو عمیق فکر کرنے کی عادت نہیں) یہ وسوسہ پیش کرتے ہیں کہ بلاشبہ حروف اور الفاظ مفردہ خدا کی کلام اور انسانوں کی کلام میں مشترک ہیں۔ سو حروف اور الفاظ مفردہ میں شراکت انسان کی خدا کے ساتھ لازم آئی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا متن میں بہ تفصیل مندرج ہے۔ تعلیم زبان کی خدا کی طرف سے ہے۔ پس حروف اور الفاظ مفردہ بھی خدا ہی نے انسانوں کو سکھلائے ہیں۔ انسان نے ان کو اپنی عقل سے ایجاد نہیں کیا۔ جس بات کو انسان ایجاد کرتا ہے وہ صرف ترکیب کلمات ہے۔ یعنی فقط یہ امر انسان کا اختیاری اور کسبی ہے کہ کسی مضمون کے ظاہر کرنے کے لئے اپنی طرف سے ایک عبارت طیار کرسکتا ہے جس میں کوئی فقرہ کسی جگہ پر اور کوئی فقرہ کسی جگہ پر وضع کرتا ہے۔ اور کسی ترکیب کو کسی محل پر اور کسی ترکیب کو کسی محل پر رکھتا ہے۔ سو یہی املاء انشاء اس کا اپنی طرف سے ہوتا ہے۔ اور اس میں ہم کہتے ہیں کہ خدا کی املاء انشاء سے انسان کا املاء انشاء ہرگز برابر نہیں ہوسکتا اور نہ برابر ہونا جائز ہے۔ کیونکہ اس سے مشارکت باری کی مخلوق سے لازم آتی ہے۔ لیکن انسان کا وہی حروف اور الفاظ مفردہ بولنا جو خدا نے اپنے کلام میں استعمال کئے ہیں یہ مشارکت نہیں بلکہ یہ تو بعینہٖ ایسی بات ہے کہ جیسے انسان مٹی کو جو خدا کی پیدائش ہے اپنے استعمال میں لاتا ہے اور طرح طرح کے برتن وغیرہ بناتا ہے۔ پس اس سے یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ انسان خدا کا شریک ہوگیا ہے۔ کیونکہ مٹی تو بلاشبہ خدا کی مخلوق ہے نہ انسان کی مخلوق۔ شراکت تو تب ثابت ہو کہ جب کوئی انسان خدا کی طرح اس مٹی سے حیوانات اور نباتات اور طرح طرح کے جواہرات بنا کر دکھلاوے۔ سو ظاہر ہے کہ انسان میں یہ مقدور نہیں کہ جو کام خدا نے مٹی سے پورا