وہ بعض میں شریک باری تعالیٰ کے ہوئے۔ اور شریک الباری بہ بداہت عقل ممتنع ہے۔ پس اس دلیل سے ثابت ہے کہ خدا کا اپنی تمام صفات اور اقوال اور افعال میں واحد
پایا۔ گھر سے تو کچھ نہ لایا۔ سو طالب حق کو چاہئیے کہ اس سے دھوکا نہ کھاوے کہ حروف اور الفاظ مفردہ یا چھوٹے چھوٹے فقرات جو خدا کی کلام میں موجود ہیں وہ انسان کی کلام میں بھی موجود ہیں۔ اور اس بات کو بخوبی یاد رکھے کہ یہ عناصر کلام کے ہیں جو خدا کی طرف سے ہیں۔ انسان بھی ان کو اپنے استعمال میں لاتا ہے اور خدا بھی۔ لیکن فرق یہ ہے کہ خدا کی کلام میں جو لفظاً و معناً خدا کی کلام ہے وہ الفاظ اور فقرات ایسی ترتیب محکم اور پرحکمت سے اور کمال موزونیت اور اعتدال سے اپنے اپنے محل پر موضوع ہوتے ہیں۔ جیسے سارے کام خدا کے جو دنیا میں پائے جاتےؔ ہیں۔ کمال موزونیت اور اعتدال اور رعایت حکمت سے ہیں۔ انسان کو اپنی انشاء میں وہ مرتبہ خدائی کا حاصل نہیں ہوسکتا۔ جیسا دوسرے تمام کاموں میں حاصل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام کفار قرآن شریف کے مقابلہ پر باوصف دعوائے فصاحت اور بلاغت اور ملک الشعراء کہلانے کے زبان بند کئے بیٹھے رہے اور اب بھی خاموش اور لاجواب بیٹھے ہیں اور یہی خاموشی ان کی عجز پر گواہی دے رہی ہے۔ کیونکہ عجز اور کیا ہوتا ہے یہی تو عجز ہے کہ مخاصم کی حجت کو سن اور سمجھ کر توڑ کر نہ دکھلاویں۔
یہاں تک تو اس حاشیئے میں کلام الٰہی کے بے مثل ہونے کی ضرورت ہم نے قانون قدرت کے رو سے ثابت کی ہے۔ لیکن بجز اس کے بے مثل ہونا کلام الٰہی کا ایک اور طریق سے بھی واجب ٹھہرتا ہے۔ جس کا بیان کرنا اسی حاشیہ میں قرین مصلحت ہے اور وہ یہ ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ بلا دغدغہ انسان کا ایسا نیک خاتمہ ہوجانا جس پر بالیقین نجات کی اُمید ہو۔ اس بات پر موقوف ہے کہ اس کو صانع حقیقی کے وجود اور اس کے قادر مطلق ہونے کی نسبت اور اس کے وعدہ جزا سزا کی بابت یقین کامل کا مرتبہ حاصل ہوجائے۔ اور یہ امر صرف ملاحظہ مخلوقات سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ بلکہ اس