​ شخص کے لئے جو اس زبان سے ناواقف ہے جس زبان میں مضامین ان کتابوں کے لکھے گئے ہیں حکم امور غیبیہ کا رکھتے ہیں۔ یہ تو اس صورت میں ہے کہ جب کوئی قوم اپنی کتب الہامیہ کی نسبت آپ قبول کرلے کہ وہ باریک صداقتوں سے عاری اور بے نصیب ہیں۔ لیکن اگر کسی قوم کی یہ رائے ہو کہ ان کی الہامی کتابوں میں باریک صداقتیں بھی ہیں جن پر احاطہ کرنا بجز ان اعلیٰ درجہ کے اہل علم لوگوں کے جن کی عمریں انہیں میں تدبر تفکر کرتے کرتے فرسودہ ہوگئی ہیں اور جن میں ایسی صداقتیں بھی ہیں جن کی تہ اور مغز تک وہی لوگ پہنچتے ہیں جو نہایت درجہ کے زیرک اور عمیق الفکر اور راسخ فی العلم ہیں تو اس جواب سے خود ہمارا مطلب ثابت ہے۔ کیونکہ اگر ایک اُمّی اور ناخواندہ آدمی ان حقائق دقیقہ کو ان کی کتابوں میں سے بیان کرے جن کو باقرار ان کے عوام اہل علم بھی بیان نہیں کرسکتے۔ صرف خواص کا کام ہے۔ تو بلاشبہ بیان اس اُمّی کا بعد ثبوت اس بات کے کہ وہ اُمّی ہے امور غیبیہ میں داخل ہوگا۔ اور یہی تمثیل سیوم کا مطلب ہے۔ تنبیہ اُمورِ غیبیہ کو منجانب اللہ ہونے پر دلالت کامل ہے۔ کیونکہ یہ بات بہ بداہت عقل ثابت ہے کہ غیب کا دریافت کرنا مخلوق کی طاقتوں سے باہر ہے۔ اور جو امر مخلوق کی طاقتوں سے باہر ہو وہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ پس اس دلیل سے ظاہر ہے کہ امور غیبیہ خدا کی طرف سے ظہور پذیر ہوتے ہیں اور ان کا منجانب اللہ ہونا یقینی اور قطعی ہے۔ تمہید سیوم: جو چیز محض قدرت کاملہ خدائے تعالیٰ سے ظہور پذیر ہو خواہ وہ چیز اس کی مخلوقات میں سے کوئیؔ مخلوق ہو۔ اور خواہ وہ اس کی پاک کتابوں میں سے کوئی کتاب ہو۔ جو لفظاً اور معناً اسی کی طرف سے صادر ہو۔ اس کا اس صفت سے متصف ہونا ضروری ہے۔ کہ کوئی مخلوق اس کی مثل بنانے پر قادر نہ ہو۔ اور یہ اصول عام جو