منطق کے بہت سے حقائق علمیہ اور دلائل یقینیہ اس کو مستحضر ہوگئے ہیں۔ اور زید ایک شخصؔ ہے جس کی نسبت یہ واقعہ ثابت ہے کہ نہ اس نے کچھ منطق و فلسفہ وغیرہ سے کوئی حرف پڑھا ہے اور نہ کتب فلسفہ سے اس کو کچھ اطلاع ہے۔ اور نہ طریقہ نظر اور فکر میں اس کو کچھ مشق ہے۔ اور نہ کسی اہل علم اور حکمت سے اس کی مخالطت اور صحبت ہے بلکہ محض اُمّی ہے اور اُمّیوں میں ہمیشہ بودوباش رکھتا ہے۔ پس وہ علوم جو بکر نے بتمامتر محنت و کلفت و مشقت حاصل کئے ہیں۔ وہ بکر کی نسبت امور غیبیہ نہیں ہیں۔ کیونکہ بکر نے ان کو ایک مدت مدید تک جہد شدید سے تعلیم پاکر حاصل کیا ہے۔ لیکن زید جو بالکل ناخواندہ ہے۔ اگر حکمت اور فلسفہ کے باریک اور دقیق علوم کو ایسا صاف اور صحیح بیان کرے جس میں سرمو تفاوت نہ ہو۔ اور علوم عالیہ کی نازک اور اعلیٰ صداقتوں کو ایسے کامل طور پر ظاہر کرے جس میں کسی نوع کا فتور اور نقصان نہ پایا جائے۔ اور دقائق حکمیہ کا ایسا مکمل مجموعہ پیش کرے۔ جن کا باستیفاء بیان کرنا پہلے اس سے کسی حکیم کا میسر نہ ہوا ہو۔ تو ہر یک امر کی نسبت مکمل بیان اس کا جس میں شرائط مذکورہ بالا پائی جائیں امور غیبیہ میں داخل ہوگا۔ کیونکہ اس نے ان امور کو بیان کیا جن کا بیان کرنا اس کی طاقت اور استعداد اور اندازہ علم اور فہم سے باہر تھا اور جن کے بیان کرنے میں اس کے پاس اسباب عادیہ میں سے کوئی ذریعہ موجود نہ تھا۔ (ج) بکر ایک پادریؔ یا پنڈتؔ یا کسی اور مذہب کا عالم اور فاضل اور ماہر جزو کل ہے۔ جس نے ایک کلاں حصہ اپنی عمر کا خرچ کرکے اور بیسیوں برس محنت اور مشقت اٹھا کر اس مذہب کے متعلق جو نہایت دقیق باتیں ہیں دریافت کیں۔ اور جو کچھ اس مذہب کی کتاب میں صواب یا خطا ہے یا جو غایت درجہ کی باریک صداقتیں ہیں۔ وہ سب مدت دراز کے تفکر اور تدبر سے معلوم کرلیں۔ اور زید ایک شخص ہے جس کی