واضح ہو کہ نہ وہ امور اس کے لئے حکم بدیہی اور مشہوؔ د کا رکھتے ہیں اور نہ بذریعہ نظر اور فکر کے اس کو حاصل ہوسکتے ہیں اور نہ اس کی نسبت عندالعقل یہ گمان جائز ہے کہ اس نے بذریعہ کسی دوسرے واقف کار کے ان امور کو حاصل کرلیا ہوگا۔ گو وہی امور کسی دوسرے شخص کی طاقت سے باہر نہ ہوں۔ پس اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ امور غیبیہ اضافی اور نسبتی امور ہیں۔ یعنے ایسے امور ہیں کہ جب بعض خاص اشخاص کی طرف ان کو نسبت دی جاتی ہے تو اس قابل ہوجاتے ہیں کہ امور غیبیہ ہونے کا ان پر اطلاق ہو۔ اور پھر جب وہی امور بعض دیگر کی طرف منسوب کئے جائیں۔ تو یہ قابلیت ان میں متحقق نہیں ہوتی۔
تمثیلات
(الف) زیدؔ ایک شخص ہے جو ہمارے اس زمانہ میں پیدا ہوا۔ اور بکرؔ ایک شخص ہے جو پچاس برس بعد زیدؔ کے پیدا ہوا۔ جس کا زمانہ زیدؔ نے نہیں پایا اور نہ اس کے واقعات سے مطلع ہونے کا زیدؔ کو کوئی خارجی ذریعہ حاصل ہوا۔ سو وہ واقعات جو بکرؔ پر گزرے اگرچہ وہ بکرؔ کی نسبت امور غیبیہ نہیں ہیں۔ کیونکہ وہ اسی کے واقعات ہیں اور اس کے لئے مشہود اور محسوس ہیں۔ لیکن اگر انہیں واقعات سے زیدؔ ٹھیک ٹھیک اطلاع دے۔ ایسا کہ سرمو فرق نہ ہو۔ تو کہا جائے گا کہ زیدؔ نے امور غیبیہ سے اطلاع دی۔ کیونکہ وہ امور زیدؔ کے لئے مشہود اور محسوس نہیں ہیں اور نہ ممکن تھا کہ ان کے حصول کے لئے زیدؔ کو کوئی ذریعہ خارجی حاصل ہوتا۔
(ب) بکر ایک فلاسفر ہے جس نے کتب فلسفیہ میں ایک زمانہ دراز تک بغور تمام نظر اور فکر کرکے دقائق حکمیہ کے جاننے اور معلوم کرنے میں ملکہ کاملہ پیدا کیا ہے۔ اور بوجہ تحصیل علوم عقلیہ اور مطالعہ تالیفات اولین اور حصول ذخائر تحقیقات متقدمین اور نیز بباعث ہمیشہ کے سوچ بچار اور مشق اور مغز زنی اور استعمال قواعد مقررہ صناعت