نسبت یہ واقعہ ثابت ہے کہ بباعث ناخواندہ ہونے کے کسی کتاب کو پڑھ نہیں سکتا ہے سو اگر بکر ان کتابوں میںؔ سے کچھ امور یا مسائل یا واقعات بیان کرے تو وہ امور غیبیہ نہیں ہیں کیونکہ بکر بذریعہ تعلیم کامل اور عرصہۂ دراز کی مشق کے ان کتابوں کے مضامین پر بخوبی مطلع اور حاوی ہے۔ لیکن اگر زید جو محض اُمی ہے ان حقائق عمیقہ کو بیان کردے جن کا جاننا بجز واقفیت تام کے محال عادی ہے اور ان کتابوں کی ایسی باریک صداقتوں کو کھول دے جو بجز خواص علماء کے کسی پر منکشف نہیں ہوتیں اور ان کے وہ تمام معائب اور نقصانات ظاہر کردے جن کا ظاہر کرنا بجز نہایت درجہ کی دقت نظر کے عادتاً ممتنع ہے۔ اور پھر اس منصب تدقیق اور تحقیق میں ایسا کامل ہو جو اپنی نظیر نہ رکھتا ہو۔ تو اس صورت میں اس کی نسبت یہ کہنا حق اور راست ہوگا کہ اس نے امور غیبیہ کو بیان کیا۔
تشریح
شاید کوئی معترض اس تمہید پریہ اعتراض کرے کہ ان سہل اور آسان منقولات کا بیان کرنا جو مذہبی کتابوں میں مدوّن اور مرقوم ہیں۔ بذریعہ سماعت بھی ممکن ہے جس میں لکھا پڑھا ہونا کچھ ضروری نہیں کیونکہ ناخواندہ آدمی کسی واقعہ کو کسی خواندہ آدمی سے سن کر بیان کرسکتا ہے۔ یہ کچھ مسائل دقیقہ علمیہ نہیں ہیں جن کا جاننا بغیر تعلّم باقاعدہ کے محال ہو۔ ایسے معترض سے یہ سوال کیا جائے گا کہ تمہاری کتابوں میں کوئی ایسی باریک صداقتیں بھی ہیں یا نہیں جن کو بجز اعلیٰ درجے کے عالم اور اجل فاضل کے ہریک شخص کا کام نہیں کہ دریافت کرسکے۔ بلکہ انہیں لوگوں کے ذہن ان کی طرف سبقت کرنے والے ہیں۔ جنہوں نے زمانہ دراز تک ان کتابوں کے مطالعہ میں خون جگر کھایا ہے اور مکاتب علمیہ میں کامل استادوں سے پڑھا سیکھا ہے۔ پس اگر اس سوال کا یہ جواب دیں۔ کہ ایسی اعلیٰ درجے کی دقیق صداقتیں ہماری کتابوں میں موجود نہیں ہیں بلکہ ان میں تمام موٹی اور سرسری اور بے مغز باتیں بھری ہوئی ہیں جن کو عوامؔ الناس بھی ادنیٰ التفات