اندرونی شہادتیں ہیں۔ وہ تمام امور قدرتیہ ہی سے ماخوذ ہیں۔ اور تعریف اقسام مذکورہ کی بہ تفصیل ذیل ہے:۔
امور محتاج الاصلاح سے وہ امور کفر اور بے ایمانی اور شرک اور بدعملی کے مراد ہیں۔ جن کو بنی آدم نے بجائے عقائد حقہ اور اعمال صالحہ کے اختیار کر رکھا ہو۔ اور جو عام طور پر تمام دنیا میں پھیلنے کی وجہ سے اس لائق ہوگئے ہوں کہ عنایت ازلیہ ان کی اصلاح کی طرف توجہ کرے۔
امور محتاج التکمیل سے وہ امور تعلیمیہ مراد ہیں جو کتب الہامیہ میں ناقص طور پر پائے جاتے ہوں اور حالت کاملہ تعلیم پر نظر کرنے سے ان کا ناقص اور ادھورا ہونا ثابت ہوتا ہو۔ اور اس وجہ سے وہ ایک ایسی کتاب الہامی کے محتاج ہوں جو ان کو مرتبہ کمال تک پہنچاوے۔
امور قدرتیہ دو طور پر ہیں:۔
۱۔ بیروؔ نی شہادتیں۔ ان سے وہ امور مراد ہیں جو بغیر وسیلہ انسانی تدبیروں کے خدا کی طرف سے پیدا ہوجائیں۔ اور ہر ایک ذرہ بے مقدار کو وہ شوکت و شان اور عظمت و بزرگی بخشیں جس کا حاصل ہونا عندالعقل محالاتِ عادیہ سے متصور ہو اور جس کی نظیر صفحۂ دنیا میں کہیں نہ پائی جاتی ہو۔
۲۔ اندروؔ نی شہادتیں۔ ان سے وہ محاسن صوری اور معنوی کتاب الہامی کے مراد ہیں جن کا مقابلہ کرنے سے قویٰ بشریہ عاجز ہوں اور جو فی الواقعہ بے مثل و مانند ہوکر ایسے قادر یکتا پر دلالت کرتی ہوں کہ گویا آئینہ خدا نما ہوں۔
امور غیبیہ سے وہ اُمور مراد ہیں جو ایک ایسے شخص کی زبان سے نکلیں جس کی نسبت یہ یقین کیا جائے کہ ان امور کا بیان کرنا من کل الوجوہ اس کی طاقت سے باہر ہے یعنی ان امور پر نظر کرنے اور اس شخص کے حال پر نظر کرنے سے یہ بات بہ بداہت